Mohib mohabbat by Zunaira bano Complete Novel
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میری “ہونے والی بیوی” کس قدر زہر اگلتی ہے۔ مجھ سے کس قدر جلتی ہے۔” ابوبکر نے دل میں سوچا۔
“جلتی نہیں ہے۔۔۔۔ بس تم سے پیار کرتی ہے۔۔۔۔”
“میں سمجھ نہیں پا رہا کہ آخر تم چاہتی کیا ہو ساریہ۔۔۔ دو سال ہونے کو ہیں۔ اس کے باوجود تم اس وکیل کا پیچھا نہیں چھوڑ رہیں۔ اس کی اب ایک بیوی ہے، بچی بھی ہے۔ وہ آزاد تھا تب تمہارے لیے کوئی قدم نہ اٹھا سکا۔ اب کیا خاک اٹھاۓ گا۔۔۔”
وہ اکتاۓ ہوۓ لہجے میں بولا تھا۔
“تم مجھے گلاب کا پھول دینا اور میں تمہیں گوبھی کا پھول دوں گی۔ پھر تمہیں ہمیشہ یاد رہے گا میں کتنی اچھی شیف ہوں۔۔۔” حمائل نے ہنستے ہوۓ کہا۔ ابوبکر کے چہرے پر مصنوعی غصہ طاری ہوا:
“اچھی شیف؟ تمہاری کنکر والی کافی بھولا نہیں ہوں میں ۔۔۔”
“ایک بار کہو۔۔۔ جو مانگو گی وہ تمہیں پل بھر میں لا کر نہ دیا تو میرا نام بھی احمر گیلانی نہیں۔”
“احمر۔۔۔” رومانی کے ہاتھ کانپیں۔ آنکھیں دھندلا گئی تھیں۔
“جب آپ جیسا مرد دست درازی کرنے کے باوجود ڈھٹائی کے ساتھ سینہ تان کر میرے سامنے کھڑا ہے تو میں اپنی عصمت کو اپنی کمزوری جان کر گھر کے کسی تاریک گوشے میں کیوں جا چھپوں۔”
وہ غرائی۔ حسن قادری مسکرا کر رہ گیا۔
ابوبکر نے پلٹ کر دیکھا۔ وہ رو رہی تھی اور آنسو بے شمار تھے۔
“مت۔۔۔ جاؤ۔” اس نے بلک کر کہا اور ہاتھ جوڑ لیے۔
“ہُما۔۔۔” وہ بے بس سا نظر آیا:
“میں واپس آجاؤں گا۔”
“میرے سامنے نقاب کیوں نہیں کرتیں؟” احمر نے اچنبھے سے پوچھا تھا۔ رومانہ نے گہری مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔ آنکھوں میں کرچیاں ہی کرچیاں تھیں۔
“تم سے کیا چھپاؤں احمر؟ چہرہ یا جسم؟”









