Skip to content
Home » University novel » Page 2

University novel

Aye ishq e junoon by Arfa Khan Complete Novel

  • by

“اے عشقِ جنون” از ارفا خان – مکمل ناول
ایک ایسی محبت جس میں ہو جنون، شدت، قربانی… اور بےقراری۔

کبھی محبت عبادت بن جاتی ہے، اور کبھی جنون۔
“اے عشقِ جنون” ایک ایسی کہانی ہے جو دلوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے — یہ عشق کی شدت اور جذبات کی انتہا کی داستان ہے۔

Pyar mera nafrat bhara by Aiman Akmal Complete novel

  • by

پھر تو تم بھی اس کے ساتھ مخلص نہیں لگتے کیونکہ ایک غیرت مند مرد کو تو یہ بات گوارا نہیں کہ اسکی بیوی کے کسی دوسرے مرد کے ساتھ تعلقات ہوں

رایان نے بھی قدرے سنبھل کر اسے جواب دیا۔۔۔ کیا کیا گمان کر بیٹھا تھا کہ اتنی جلدی جیت گیا وہ لیکن یہاں اس کا کھیل اس پر ہی الٹ چکا تھا۔۔۔۔ مگر وہ ہار نہیں مان سکتا تھا وہ ابھی بھی کوشش کرے گا

کچھ لوگ اپنی زندگی اچھے سے گزارنے کے بجائے دوسروں کی زندگی برباد کرنے کی سعی کرتے رہتے ہیں۔۔۔ اور پھر وہ اپنی اس زندگی کے ساتھ ساتھ آخرت کی زندگی بھی تباہ کر لیتے ہیں

اور رایان ان کچھ لوگوں میں سے ہی ایک تھا

تو تمہیں کیا لگتا ہے مسٹر رایان شاہ میری غیرت اس میں ہے کہ میں گھر جا کر اپنی بیوی کی کردار کشی کروں؟؟۔۔۔۔۔۔۔ دوسروں کے سامنے اسے بدکردار کہوں اور بےعزت کروں؟؟۔۔۔۔۔۔ اس کی تزلیل کروں؟۔۔۔۔۔ کیا اس کو مردوں کی غیرت کہتے ہیں ؟

ارحم دوبارہ سے آگے کو ہو کر بیٹھا۔۔۔۔ چہرے پر اب سنجیدگی برقرار تھی۔۔۔ آخر میں وہ تمسخرانہ ہنسا

ہاں شاید اگر میں اس کے کردار کو داغ دار کہتے طلاق کے کاغذات اس کے منہ پر مار دوں تو میں بہت غیرت مند مرد کہلاؤں گا۔۔۔۔ ارحم استہزایہ ہنسا

دنیا کے سامنے اپنی بیوی کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے بجاۓ میں اسے رسوا کر دوں تو میں غیرت مند مرد کہلاؤں گا۔۔۔ وہ ٹھہرا اور رایان کی آنکھوں میں جھانکا

ایسا ہی ہے نا۔۔۔۔ اس نے رایان کی آنکھوں میں دیکھتے تصدیق چاہی تھی لیکن وہ تو جیسے حیرت کے سمندروں میں ڈوب چکا تھا۔۔۔ وہ شل سا بیٹھا اسے سن رہا تھا

اگر ایسا کرنے سے میں غیرت مند مرد کہلاؤں گا تو معزرت کے ساتھ میں بے غیرت ہی سہی ہوں۔۔۔۔

مجھے غیرت مند مرد بن کر اپنی بیوی کو اسکی خود کی نظروں میں نہیں گرانا۔۔۔

Dar e mohabbat se humkinar nahi by Aina Noor Complete novel

  • by

آپ دونوں ہر جگہ بن بلائے مہمان بن جایا کرو”۔

” اوہ موٹی تم چپ کرو تم سے کوئی بات کر رہا۔ایویں ہر معاملے میں ٹانگ نہ گھسایا کرو۔ بابا ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے ” شاہ ویز بولا۔

“آپ کی ہمت بھی کیسی ہوئی مجھے موٹی کہنے کی، ایس پی کی بیٹی ہوں میں”۔

“اور میں کہاں سے موٹی لگتی ہوں اتنی پتلی تو ہوں میں” عاشی نے غصے سے کہا غصے سے عاشی کی چھوٹی سی ناک پھول گئی تھی۔

“میں بھی انہی کا بیٹا ہوں” شاہ ویز نے اس کی پھولی ناک دباتے ہوئےکہا۔

“اور تم پہلے موٹی ہی ہوتی تھی اب ڈائٹ ایکسرسائز کر کے پتلی ہوئی ہو ، تو خود کو زیادہ اوور سمارٹ نہ سمجھو اور اپنا یہ چھوٹا دماغ کم استعمال کیا کرو”۔

عاشی نے غصے سے شاہ ویز کا ہاتھ جھٹک دیا جس سے وہ اس کی ناک دبا رہا تھا۔

“میں تو پھر ڈائٹ ایکسرسائز کر کے پتلی ہو گئی ہوں۔ آپ بھی کچھ کھا پی کر اپنی صحت بناؤ۔ تھوڑی سی تیز ہوا چلے تو مجھے ڈر ہی لگا رہتا ہے کہ کہیں میرا بھائی اس ہوا سے اُڑ ہی نہ جائے، سڑا ہوا مینڈک نہ ہو تو” عاشی نے اس کی صحت پر چوٹ کی۔

“شاہ ویز اب تو تمہیں جم جوائن کر ہی لینی چاہئے” بالاج ہنستے ہوئے بولا۔

شاہ ویز نے بالاج کو غصے سے گھورا جس کا بالاج پر کوئی اثر نہ ہوا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Maharib by Kanwal Hanif Complete novel

  • by

ہر کوئی محارب ہے۔ کوئی محبت کے لیے لڑرہا تو کوئی اپنے حق کے لیے تگ و دو کررہا ہے۔ اور کوئی خود سے جنگ کر رہا ہے ۔ کوئی اپنے آپ کو ہرانا چاہتا ہے ۔ زندگی کسی کے لیے بھی پھولوں کی سیج نہیں ہو سکتی ۔ زندگی ایسی ہی ہے ۔ ہم جنگوں کے دوران بہت کچھ کھو دیتے ہیں ۔ لیکن اگر ہم خود کو کھو دیں تو سمجھ لیں ہم نے سب کچھ کھو دیا ہے ۔ کیونکہ جنگ عزت کی ہو یا محبت کی کو اس میں اگر کچھ اہم ہے تو وہ آپ ہیں۔ زندگی میں چاہے بہت کچھ کھو جائے ۔ لیکن سب کچھ نہیں کھونا چاہیے ۔اور وہ سب کچھ آپ ہیں۔ آپ کا اپنا وجود نہیں کھونا چاہیے ۔ زخمی ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔ لیکن ان زخموں کو بھرنے نہ دینا صریحاً غلط ہے ۔ ہر جنگ کے دوران خیال رکھیں کہ آپ کا اپنا وجود نہیں کھونا چاہیے ۔ اس ناول کا ہر کردار محارب ہے ۔ ہر کوئی جنگ میں ہے۔ کوئی خود سے تو کوئی کسی اور سے ۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کون اس جنگ کے دوران بہت کچھ ہارتا ہے اور کون سب کچھ ہی ہار دیتا ہے۔ دنیا کی سب سے مشکل جنگ وہ جو انسان خود سے لڑتا ہے ۔ اندرونی جنگ بیرونی زنگ کا خاتمہ کر دیتی ہے۔

Tu jo chahy by Jannat Sheikh Complete novel

  • by

زیان یہ ٹرائی کرو تم پر کافی سوٹ کرے گا۔۔۔

نہیں از کا تم اپنے لیے کچھ دیکھ لو میرے کپڑے ہیں۔۔۔ میں لے کر دے رہی ہوں نا اور تم مجھے منع کر رہے ہو اور تم میری پسند کا سوٹ پہنو گے صبح اور میرے لیے تم سلیکٹ کرو گے ازکا زیان کا سوٹ پیک کروا کے اب اپنے لیے ڈریس لینے اتی ہے۔۔۔

زیان دیکھو یہ کیسا ہے۔۔۔

اس شوپ میں کوئی بھی نہیں اچھا تم میرے ساتھ چلو میں تمہیں بتاتا ہوں لڑکیاں کیسے کپڑے پہنتی ہیں۔۔۔ زیان کو کافی تجربہ تھا کیونکہ وہ جب بھی اپنے لیے کچھ لیتا تو ساتھ ایت ماحم امی کے لیے بھی شاپنگ کرتا ۔۔۔زیان اس کو ایک سفید فراک نکال کر دکھاتا ہے جاؤ یہ ٹرائی کرو۔۔۔

زیان میں نے کبھی اس طرح کے کپڑے نہیں پہنے ۔۔۔یار ٹرائی تو کرو بہت پیاری لگو کی زیان ازکا کو انسسٹ کرتا ہے۔۔۔

جب وہ پہن کر اتی ہے تو زیان فورا اس کے پاس جا کر پوچھتا ہے کیسا فیل کر رہی ہو ۔۔سہی فیل کر رہی ہوں ۔۔۔وہ تعجب سے کہتی ہے۔۔۔۔ یہ ہیں لڑکیوں کے پہننے والے کپڑے۔۔۔

تو پہلے کیا میں لڑکوں والے پہنتی تھی ۔۔

لڑکوں والے تو نہیں تھے لیکن لڑکیوں کے بھی قابل نہ تھے ایسے کپڑے پہنا کرو دیکھو کتنی پیاری لگ رہی ہو۔۔۔ ازکا کو شیشے کے سامنے کھڑا کرتے ہوئے کہتا ہے ۔۔۔زیان ازکا کے کندھے سے بال ہٹا کر اس کے فراک کی ڈوری باندھتا ہے۔۔۔۔ اج تم مجھے کوئی باڑ بی لگ رہی ہو۔۔۔۔ تو پھر ٹھیک ہے میں یہی پہنوں گیں صبح کیونکہ اب تو تم نے کہا ہے میں ضرور پہنوں گیں۔۔۔۔

وہ نظر چڑا کر بول رہی تھی دراصل وہ شرما رہی تھی کیونکہ اس سے پہلے زیان اس کے اتنا قریب نہیں ایا تھا

Pyar mera nafrat bhara by Aiman Akmal complete novel

  • by

زری ایک لڑکی تمہارا نام پوچھ رہی تھی میں ایج سے لے کر گھر کے ایڈریس تک سب بتا آئی۔ عشاء تو ایسے بتا رہی تھی جیسے کوئی کارنامہ کر دیا ہو

بس فون نمبر رہ گیا. عشاء اداس ہوئی

کیا مطلب کس کو بتا آئی ہو؟ زریام کے تو ہوش اڑے تھے

دعا دو گے مجھے فری میں ایک گلر فرینڈ مل گئی

شکریہ ادا مت کرنا۔ ایسے چھوٹے موٹے کام میں کرتی رہتی ہوں۔ ویسے مبارک ہو تمہیں اب تم سنگل نہیں رہے

عشاء تو مسکرا رہی تھی لیکن زویا کے چہرے کا رنگ اڑ چکا تھا

یار عشاء یہ کوئی طریقہ۔۔۔۔۔

اوہ کملی جی ناں پوچھدی۔۔۔۔ کیندی ہاں یاں کہ نا پوچھدی

او لبھدی بہانے پھردی۔۔۔۔۔۔ کدے کافی کدی چاہ پوچھدی

زریام کچھ کہنے ہی لگا تھا جب عشاء گنگنانے لگی

میں پھیرا اگنور ماردا کیوں کہ ٹوٹیا ہے دل یار دا

یار ہی نے جیرے سانبھی جاندے نے عشاء نے خود کو مہان محسوس کرتے بائیں پھیلائی

زریام حیران و پریشاں بیٹھا ایک نئی مووی کا ٹریلر دیکھ رہا تھا

بس کر دو عشاء ہر بات مزاق نہیں ہوتی۔ زویا غصے سے کہتی اٹھ کر چلی گئی

اسے کیا ہوا؟ زریام نے اسے غصے میں جاتے ہوۓ دیکھ پوچھا

میں دیکھ کر آتی ہوں؟ عشاء بھی اس کے پیچھے جانے کے لیے کھڑی ہوئی لیکن دو قدم چلنے کے بعد بھاگ کر واپس زریام کے پاس آئی

یہ گانا پرفیکٹ میچ تھا لیکن ایک مسئلہ ہے یار تمہارا دل ٹوٹا ہوا نہیں ہے تو پھر ایسا کرو پہلے اپنا دل تڑواؤ اور پھر ہم یہی سے شروع کریں گے ۔ عشاء اسے آنکھ مارتی زویا کے پیچھے جانے لگی جبکہ زریام نفی میں سر ہلا کر رہ گیا

زویا منہ بناۓ بینچ پر بیٹھی تھی جب عشاء اس کے ساتھ آکر بیٹھی

ایسے کیا دیکھ رہی ہو تمہارا ہی ہے۔ عشاء نے اس کے کندھے سے کندھا مس کیا

ک۔کیا مطلب

زویا جو زریام کو ہی دیکھ رہی تھی جس کے پاس کچھ لڑکیاں کھڑی تھیں اور وہ بھی ایسے بات کر رہا تھا جیسے اس کے ماموں کی بیٹیاں ہوں اپنی چوری پکڑے جانے پر ہڑبڑا کر بولی

تمہیں کیا لگتا ہے میں نہیں جانتی اس بارے میں۔ بچپن کی دوستی ہے میری تم سے چہرہ بھی پڑھ لیتی ہوں

اور وہ تاثرات تو واضح جھلک رہے ہوتے ہیں جو زریام کو کسی لڑکی کے ساتھ دیکھ کر تمہارے چہرے پر آتے ہیں۔ عشاء نے اس کے گرد باہیں پھیلاتے اس کی تھوڑی پر انگلی رکھتے اسکا چہرہ اپنی طرف موڑتے کہا

عشاء میں بہت کوشش کرتی ہوں اس سب سے نکلنے کی لیکن یہ میرے بس میں نہیں رہا یار۔ میں کیوں اس کے بارے میں سوچتی ہوں۔ اس کا کسی سے بات کرنا مجھے کیوں اچھا نہیں لگتا مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا ہے یار میں کیا کروں؟ مجھے ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے۔ جب بھی وہ کسی لڑکی سے ہنس کر بات کرتا ہے تو دل میں خوف پیدا ہو جاتا ہے

زویا اپنے جذبات بتانے سے بھی ڈرتی تھی اور زریام کے کسی اور کے بارے میں جذبات جاننے سے بھی ڈرتی تھی

اگر وہ کسی سے۔۔۔۔۔۔

تمہیں لگتا ہے ایسا کچھ ہو گا ہر لڑکی کو تو وہ ایسے ٹریٹ کرتا ہے جیسے اس کی گرل فرینڈ ہو لیکن یار اسکا وہ ڈائیلوگ ساری لڑکیاں میری بہنیں ہیں