Skip to content

Safar e haqeeqat (apni Main ki talash mein) by Meera Binte Ayesha

  • by

“سفرِ حقیقت” – ایک منفرد روحانی داستان

میرا بنت عائشہ کے ناول “سفرِ حقیقت” میں محبت، ایمان اور خودشناسی کے خوبصورت جذبات کو منفرد انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کہانی خاص طور پر ان افراد کے لیے ایک پیغام ہے جو دنیاوی تعلقات میں الجھ کر اپنے حقیقی مقصد کو بھول جاتے ہیں۔

کہانی کی مرکزی کردار، امیرہ، جانتی ہے کہ اللہ ہمیشہ سنتا ہے، مگر اس کا دل حقیقی اطاعت کی جانب مائل نہیں ہوتا۔ اس کی زندگی میں کئی چیلنجز آتے ہیں، اور سب سے بڑی آزمائش ایک نامحرم سے اس کا تعلق ہے۔ یہ کہانی ان تمام افراد کی عکاسی کرتی ہے جو وقتی جذبات میں بہک کر اپنی اصل پہچان کھو بیٹھتے ہیں۔

امیرہ کو جس شخص سے محبت ہوتی ہے، وہ اس کی قسمت میں نہیں ہوتا، اور جسے وہ پسند کرتی ہے، وہ اس کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔ لیکن آخر میں، وہ اس شخص کے ساتھ اپنی زندگی کا سفر شروع کرتی ہے جو اللہ کے فیصلے پر یقین رکھتا ہے، اور جس کے لیے ظاہری خوبصورتی سے زیادہ دل کی پاکیزگی اہمیت رکھتی ہے۔

“سفرِ حقیقت” ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دعائیں، تعویذ یا خواہشات ہمیشہ ہماری تقدیر کو نہیں بدل سکتے، کیونکہ جو کچھ بھی ہوتا ہے، وہ اللہ کی حکمت کا حصہ ہوتا ہے۔ امیرہ کے سفر کے ذریعے ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ حقیقی خوشی صرف دنیاوی رشتوں میں نہیں، بلکہ اللہ پر مکمل بھروسہ رکھنے میں ہے۔

یہ ناول محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک ایسا سبق ہے جو ہر شخص کو یہ سمجھاتا ہے کہ کسی کے پیچھے بھاگنے کے بجائے، اللہ کی محبت کو اپنی زندگی کا محور بنانا چاہیے۔ اگر آپ روحانی اور جذباتی کہانیوں کے شوقین ہیں، تو “سفرِ حقیقت” ضرور آپ کے دل کو چھو لے گا۔

Ek cup chai by afsana Mehtab Zahoor

  • by

” تم میں کوئی تمیز ہے کہ نہیں۔ اندھی ہو جو اس طرح ٹکراتی پھرتی ہو؟” وہ تقریباً چیختے ہوئے بولی تھیں۔ ان کی آواز سن کر سبھی لوگ آ گئے تھے۔ جب کہ صبیحہ ابھی تک بے یقینی سے گال پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔ آج تک کسی نے اس پر ہاتھ نہیں اُٹھایا تھا۔ زندگی میں پہلی بار اس نے تھپڑ کا درد محسوس کیا تھا۔

” یہ کیا حرکت ہے تابندہ؟ تم آج تک جیسا بھی رویہ رکھو میں نے تمہیں کبھی کچھ نہیں کہا۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم بچوں پر ہاتھ اٹھانا ہی شروع کر دو۔ “

دادی گرجتی آواز میں بولی تھی۔ سبھی کو تابندہ چچی کا تھپڑ مارنا بہت برا لگا تھا۔ صبیحہ کی والدہ اپنے اندر ابھرتے غصے کے باعث بہت کچھ بولنا چاہتی تھیں مگر یہ اس گھر کا اصول تھا کہ جب رحمت عزیز بولتی تھیں تو پھر کسی کے بولنے کی گنجائش نہیں بچتی تھی۔

تابندہ چپ چاپ کھڑی ان کی ڈانٹ سن رہی تھیں۔ تھپڑ مار کر شرمندہ وہ خود بھی ہو رہی تھیں۔ مگر اب ان کی شرمندگی کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔

Black Rose by Afifa Fatima Complete novel

  • by

یہ کہانی ہے

رازوں کی دھند میں لپٹی،خزاں کے پتوں جیسی ٹوٹی بکھری سی۔

سمندر سے محبت کرنے والے سمریز بخاری کی زندگی کی۔

یہ کہانی ہے

صلہ شاہد کے گمراہ دل کے ٹوٹنے کی ۔

یہ کہانی ہے انتقام ، حسد اور محبت جیسے جزبوں کی۔

کیونکہ وقت بدلتا ضرور ہے ۔

زندگی میں پھول کِھلتے ضرور ہیں ۔

امید کے دیے جلتے ضرور ہیں ۔

زندگی کے بھید کھلتے ضرور ہیں ۔

گمراہی کے سورج ڈوبتے ضرور ہیں ۔

کیا سمریز بخاری کی زندگی میں پھول کھل سکیں گے ۔

کیا صلہ شاہد کی زندگی میں ہدایت کا سورج طلوع ہوسکے گا ۔

کیا اُمید کے دیے روشن ہوسکیں گے ۔

کیا زندگی کے بھید کھل سکیں گے ۔