Skip to content

The Evil Love novel by Maliha Fatima

  • by

تم کون ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

اخر چاہتے کیا ہو مجھ سے۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

کیوں لائے ہو مجھے یہاں پر اس کی نڈھال ہوتی حالت اور بگڑتی جا رہی تھی

میں جو چاہتا ہوں مجھے وہ بہت جلد ملنے والا ہے۔۔۔!!!

لڑکی میں اس کا سب کچھ چھین کر اسے برباد کر دوں گا اس کا سب میرا ہوگا اور پھر میں اس کی بھی جان لے لوں گا بس میرا راج ہوگا ہر جگہ سمجھ ائی وہ غصے میں دھاڑ رہا تھا

تم کس کو مارنا چاہتے ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

کس کے لیے لائے ہو مجھے یہاں زبردستی الفاظ منہ سے اٹک اتک کر نکل رہے تھے۔۔۔۔۔

میں کس کو ماروں گا وہ اپنا ہاتھ کی ایک انگلی اپنی تھوڑی پہ رکھ کے سوچنے والا ایکشن کرتے ہوئے بول رہا تھا او میں کس کو ماروں گا وہ جو تمہاری

شاید جان ہے کہیں ۔۔۔۔۔

وہی تو نہیں ہنس رہا تھا

وہ کسی کی محبت برباد کر کر وہ کیسے ہس سکتا تھا شرم انی چاہیے ۔۔۔۔۔۔!!!!

نہیں نہیں پلیز ایسا مت کرنا ت تمہیں خدا کا واسط کہہ ایسا مت کرنا میں اس کے بنا مر جاؤں گی پلیز وہ گڑگڑا رہی تھی اسکی جان سے پیاری چیز کو مارنے کی بات کر رہا تھا وہ کسے نہ گھبراتی اور ہاتھ چھڑانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی

میں تو کروں گا۔۔۔۔

وہ ہاتھ ہوا میں لہراتے ہوئے بولا

جو کر سکتی ہو کر لو اب مجھ سے تم کو اور تمہارے جانشین کو کوئی نہیں بچا سکتا سمجھی وہ ایک ادا سے بول رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

تم پڑی رہو ہی پر جب تک میرا کام نہیں ہو جاتا ڈارلینگ۔۔۔۔!؛

ایک دم سے اس کے شہرے سے کپڑا ہٹ گیا تھا اور شاید وہ ڈر گیا تھا اور واپس دیر کیے بہنا اپنا چہرا ڈاپ چکا تھا

تتتتتمممممم۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

میں اس کو بتا دوں گی تم اسے دوکا دے رہے ہو جو تم سے اتنا پیار کرتا ہے

وہ جا چکا تھا ہا وہ اکیلا اس معصوم جان کو اس ویران جنگل میں چھوڑ گیا تھا

اب عنوا وہاں سے بھاگنے کے لیے کوشش کر رہی تھی کبھی ہاتھ کی راسی توڑتی تو کھبی پیر زمین پر پاتکتی ۔۔۔۔۔۔۔

کوی بھاگ رہا تھا یہاں سے وہاں

وہ پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا تھا بس

پر وہ اسے کہیں نہیں مل رہی تھی

اس کا دل پھٹ رہا تھا اس کو لگ رہا تھا اج سب ختم ہو جائے گا

وہ کہاں چلی گئی تھی ابھی تو یہی تھی

اب تم ملی مجھے تو میں تمہیں مار ڈالوں گا ۔۔۔۔۔۔غصے سے اس کے ہال ہکھلال ہوتی جا رہی تھی

عنوا بھاگتے بھاگتے اب تھک چکی تھی کھانا تو اس نے کل رات سے نہیں کھایا تھا پانی بھی شاید اور اتنے زخموں کے بعد کون ہی چل سکتا تھا

وہ لڑکھڑاتی چلتی پھر گرتی پھر سنبھلتی چلتی جا رہی تھی اب وہ اس محل کے سامنے کھڑی تھی جسے لوگ عیول کیسیل کے نام سے جانتے تھے

بس پیچھے سے کچھ چیز ٹک کر کر اس کو لگ گئی تھی

جو اس کا سینہ چیر چکی تھی

اور یہ منظر دو لوگوں نے نہیں بلکہ تین لوگوں نے اپنی نظروں میں قید کیا تھا

وہ گرے انکھیں بھی اس وقت اسے ہی دیکھ رہی تھی وہ چیخا تھا چیخنا تو فرض تھا اس پر اس کی دنیا اجڑ گئی تھی اس ایک لمحے میں عنوااااااااااا

Dhoop aur chaon novel by Biya Naz

تم ایک عام عورت نہیں ہو ایک بہادرسپاہی کی بیوی ہو جو کہ کبھی ہمت نہیں ہار سکتی اسکا حوصلہ چٹانوں جیسا ہے اور وہ مضبوط ہے جیسے کہ پہاڑ ہو۔ لاریب میری جان تمہاری آنکھوں میں آنسو تمہاری کمزوری کی علامت ہے۔ اگر تم اداس رہو گی تو میں اپنے فرض اورمان کو کیسے نبھا سکوں گا۔ تم مجھ سے وعدہ کرہ کہ کبھی ان حسین آنکھوں میں آنسو نہیں آئیں گے چاہے کہ میرے جسد خاکی پرچم میں لپٹا ہواکیوں نہ آئے میں ضرور لوٹ کر آؤں گا غازی بن کر یا شہید بن کر۔ میری خواہش ہے کہ میں اپنے بچوں کو اپنے ہا تھوں میں لو ں انکو اپنی گود میں کھیلاؤں لیکن زندگی اور موت صرف اس باری تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے مجھ سے وعدہ کرو تم میرے بچوں کو ایک چٹان کی طرح مضبوط بناؤ گی۔ اور چاہے میں ساتھ ہوں یا نہیں لاریب نے تڑپ کے میجر ریحان کے منہ پر ہا تھ رکھ دیئے اور شکوہ بھر نظروں سے دیکھا۔ آپکی لاریب کمزورنہیں ہے ریحان وہ ایک بہادر سپاہی کی بیوی ہے۔ آپ مطمئن رہیں یہ کہنے کی دیر تھی کہ ریحان کے اندر سکون کی لہر دوڑ گئی۔ اور لاریب کے ماتھے پر اپنے ہونٹ ثبت کیے اور اسکو بانہوں میں بھینچ لیا کیونکہ یہ لمحہ انکے لیے بھی بہت مشکل تھا کافی دیر دونوں نے اپنے بچوں کے بارے میں مستقبل کے بارے میں بات کی اور بی جان کی آواز پر ڈائنگ ہال میں کھانے کی میز پر پہنچ گئے تھے کیونکہ آج ولی ہاؤس میں عید کا سماں تھا کہ سب اکٹھے ایک ساتھ میجر ریحان کو دعاوں کے سائے میں رخصت کرنے کے لیے آئے تھے کہ ملک و قوم کے لیے جان دینے کیلئے ولی ہاؤس کا بچہ بچہ تیار تھا۔

Apne man mein doob kar pa ja suragh e zindagi novel by Jaweria Bint e Zubair

دادی جان مجھے تو یہ سب کا بدلہ رویہ سمجھ میں نہیں آ رہا؟

ماہی اداسی سے بولی۔

٫٫بیٹا ہم جب اللّٰہ کی راہ اختیار کرتے ہیں تو بظاہر کوئی مشکل اور رکاوٹ نظر نہیں آتی۔ ہم اسے بہت آسان سمجھتے ہیں مگر بعد میں سب اپنے لوگ بھی منہ پھیر لیتے ہیں کہ انسان کا دل چھلنی ہو جاتا ہے۔ صبر کرو اللّٰہ کی راہ میں آزمائش ضرور ہوتی ہے۔ مگر اسکا اجرو انعام بھی اتنا بڑا ہے صبر کرو،،

وہ پیر پٹختی ہوئی اندر کی طرف چل دی۔

اس نے سرمئی گھٹنوں تک آتی قمیض پہنی اور گاڑی میں ڈرائیور کے پیچھے جاکر بیٹھ گئی ڈرائیور نے اسے صادام کے گھر چھوڑا۔

وہ گھر کے اندر داخل ہوئی۔ گھر میں خاموشی تھی۔

تم مجھ سے کتنی محبت کرتے ہو صادام؟

ڈرائنگ روم سے نسوانی آواز آئی۔ وہ آواز سن کر اسکا دل دھڑکا۔

وہ ڈرائنگ روم کے دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہو گئی۔ اسے صادام کے جواب کا انتظار تھا۔

٫٫ بے انتہا،،

صادام کے جواب پر اسکا دل چھن سے ٹوٹا۔

اس نے کمرے میں جھانکا نوجوان لڑکی مغربی طرز کے کپڑے پہنے صادام کے ساتھ بیٹھی تھی۔

واہ!صادام واہ! وہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔

اسکی آنکھوں سے دو آنسو نکل کر گال پر پھسل گئے۔

یہ کون ہے بےبی؟

لڑکی نے سوال داغا۔

یہ کیا بتائے گا میں خود بتاتی ہوں۔وہ دو قدم آگے بڑھی۔

میں اسکی منگیتر ہوں جسے ابھی کل یہ اپنے نام کی انگوٹھی پہنا کر آیا ہے۔ وہ دکھ سے بولی پھر اس نے صادام کی طرف رخ کیا اور بولی

٫٫تمہیں پتا ہے جیسا مرد ہوتا ہے اسے ویسی عورت ملتی ہے۔ تمہیں پتا ہے تم اسی کو ڈیزرو کرتے ہو۔ اس نے انگوٹھی اتار کر اسکے منہ پر ماری اور فوراً وہاں سے نکل گئی۔

***

آج صادام کے گھر کیا ہوا تھا؟

اس کے ڈیڈ نے سوال کیا۔

بابا وہاں ایک لڑکی تھی اس نے اتنا کہا تھا کہ اسکی آنکھوں میں آنسو آ گئے وہ مزید کچھ کہتی اس سے پہلے اسکی امی بول اٹھیں

وہ اسکی دوست تھی۔

مما وہ غلط بات کر رہی تھی جو چیز میری ہے وہ صرف میری ہے۔ میں ماہجبین شاہ ہوں میں چیزیں بانٹنا نہیں جانتی وہ چلائی۔

اپنی آواز نیچی رکھ کر بات کرو اسکے ڈیڈ غصے سے بولے۔

تمہارے بھی تو لڑکے دوست تھے صادام نے تو کبھی کچھ نہیں کہا اسکی امی نے طنز کیا۔

تم انگوٹھی اتارنے کا مطلب سمجھتی ہو نہ رشتہ توڑنے کے مترادف ہوتا ہے اسکی امی غصے سے بولیں۔

٫٫تمہارا نکاح صرف صادام سے ہوگا،،

***

رک جائیں قاضی صاحب۔

ہال میں آواز گونجی۔ پولیس انسپکٹر اپنے حوالداروں کے ساتھ ہال میں داخل ہوا۔

سب پولیس انسپکٹر کی طرف دیکھنے لگے۔

زین شاہ آگے بڑھے

یہ کونسا طریقہ ہے کسی کے ذاتی فنکشن میں گھسنے کا وہ غصے سے بولے۔

ہمارے پاس صادام اکبر کے گرفتاری کا وارنٹ ہے صادام اکبر کو اسمگلنگ کے جرم میں گرفتار کیا جاتاہے۔

انسپکٹر نے کہا۔ ایک حولدار صادام کو ہتھکڑی پہنا رہا تھا۔ جبکہ اسکی امی چلا رہی تھی۔ ماہجبین حیرانی سے یہ سارا تماشا دیکھ رہی تھی۔ پولیس صادام کو گرفتار کرکے لی جا چکی تھی۔

زین بھائی میرے بیٹے پر الزام لگا ہے۔ یہ کسی کی سازش ہے پلیز آپ کچھ کریں صادام کی امی روتے ہوئے بولیں۔ کچھ کرتے ہیں وہ سر ہلاتے ہوئے بولے۔

Qalb-e-ulfat novel by Hooria Ahmad

  • by

“دور رہو میری بہن سے! خبردار اگر میری بہن کے پاس آئے تو! بہت ماروں گا تمہیں، گندا ولی!”

ہارون نے حورین کو ولی سے دور کرتے ہوئے کہا۔ ولی کا دل پہلی بار کیا کہ وہ ہارون کو مارے، مگر وہ چاہ کر بھی اس پر عمل نہیں کر سکا۔ دونوں کے درمیان یہ بےوجہ دشمنی تب سے ہی شروع ہو گئی تھی جب سے دونوں پیدا ہوئے تھے۔ ان دونوں میں صرف تین دن کا فرق تھا، ہارون ولی سے تین دن بڑا تھا۔

مزاج کے لحاظ سے، ہارون اپنے ماموں حیدر پر گیا تھا جبکہ ولی اپنی پھوپھو حورم جیسا تھا۔ جتنا ہارون ضدی اور اکھڑ تھا، ولی اتنا ہی پرسکون اور خوش مزاج تھا۔

“وہ میری دوست ہے! میں اس کے ساتھ کھیلوں گا۔ اور اگر تم نے مجھے مارا، تو میں بھی تمہیں ماروں گا اور انکل سے تمہاری شکایت کروں گا! گندا ہارون!”

Ishq maan mehram by Mahnoor Baloch

  • by

کیا ہوا کہاں ہے میری بچی۔۔۔؟؟ زینب بیگم روتے ہوئے سوال کیا تھا
ایک ماں اپنے سارے بچوں سے برابر ہی پیار کرتی ہے چاہے دنیا والے جیسا بھی سوچ لیں۔۔ماں کے لیے کبھی بھی ایک اولاد دوسری پر ترجیح نہیں دیتی
انس خاموش تھا۔۔۔
زارون کی آنکھوں میں انگارا تھا جیسے اسے اب اس نام سے بھی نفرت ہو۔۔۔۔
انس بتاؤ کہاں ہے زائیشہ۔۔۔اس بار زینب بیگم تقریباً چیخیں تھی
بھاگ گئی ہے وہ۔۔۔کسی آوارہ لڑکے کے ساتھ۔۔۔ زارون نے کہا تھا اس کی آواز کسی کھائی کے اندر سے آئی تھی
تمہارا دماغ خراب ہے میری بیٹی پہ بہتان لگا رہے ہو۔۔۔ مقدم شاہ اس بار آگے آئے تھے انہوں نے زارون کا گریبان پکڑ کر کہا تھا
صحیح کہہ رہا ہوں میں بھاگ گئی ہے وہ اگر یقین نہیں۔۔۔تو پوچھیں اپنے بیٹے سے زارون نے مقدم صاحب کے ہاتھ سے اپنا گریبان چھرایا تھا
پہلے اپنے گریبان میں دیکھیں پھر دوسروں کا گریبان پکڑنا۔۔۔زارون نے طنزیہ نظر ڈال کر کہا
انس جو کب سے چپ کھڑا تھا زارون کا ہاتھ پکڑ کے اسے گھر سے نکال دیتا ہے
زبان کو لگام دو تم سے یہ امید نہیں تھی۔۔۔ آئیندہ مجھے اپنا دوست نا کہنا۔۔
تمہارے جیسا دوست میں مر کر بھی نا بناؤں زارون نے قدر غصہ سے کہا تھا

Guman novel by Tayyaba Rafiqe

  • by

“امی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی”

اس کے گلے سے ایک دلخراش چیخ فضا میں بلند ہوئی

“امی اٹھیں ۔۔۔۔امی آنکھیں کھولیں کیا ہوا ہے امی ی ی ی یی۔ ۔۔۔۔”

دعا نے اپنا فون اٹھایا اور ابو کا نمبر ملایا لیکن آؤٹ آف کورج ۔۔۔۔۔۔

“یا اللہ”

دعا کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے ۔۔۔۔وہ دوڑ کر باہر گلی کسی کی مدد لینے آئی لیکن وہاں سواۓ سنسان سڑک کے کچھ بھی نہیں تھا۔

وہ بھاگ کر امی کے پاس آئی

“امی ۔۔۔۔۔امی پلیز آنکھیں کھولیں نا ۔۔۔۔امی ی ی ی “

ساتھ ساتھ وہ زرمینہ کا نمبر ملانے لگی

“آپی ۔۔۔۔آپی امی۔۔۔۔۔بھائی۔۔۔۔۔۔آآ۔۔۔آپی پلیز گھر آ جاؤ”

وہ روتے ہوۓ بات بھی نہیں سمجھا پا رہی تھی ۔

“کیا ہوا ہے دعا ؟؟؟سب خیریت ہے نا ۔۔۔۔؟؟؟؟امی کہاں ہیں ؟؟کیا ہوا امی کو ؟؟؟ذور دانی کہاں ہے؟؟ابھی تک گھر نہیں پہنچا؟؟؟”

زرمینہ اس کی آواز سن کر بوکھلا گئی تھی۔

” آپی بھائی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور امی بے ہوش۔۔۔۔آپی کوئی نہیں ہے گھر میں ۔۔۔۔۔ابو کو بھی فون نہیں ۔۔۔۔لگ رہا۔۔۔۔۔آپی پلیز آ جاؤ۔۔۔۔”

“اللہ ۔۔۔۔۔۔۔میں ۔۔۔میں ابھی آ رہی ہوں پریشان نہیں ہو ۔۔۔”