Skip to content
Home » Adamzad or Bintehawa novel by Umaima Shafeeq Qureshi

Adamzad or Bintehawa novel by Umaima Shafeeq Qureshi

Adamzad or Bintehawa novel by Umaima Shafeeq Qureshi

  • by

“زارون چلو گھر چلتے ہیں۔”یہ وہی جانتی تھی کہ اس نے یہ بات کیسے کہی تھی۔

“ٹھیک ہے تو چلتے ہیں۔پہلے تمہاری غنڈی کزن کے ہاتھ کی چائے تو پی لوں۔”

“اپنے گھر جا کر نا اپنی معصوم بیوی کے

ہاتھ کی کافی پی لیجیے گا۔”انارا نے تڑک کر جواب دیا تھا۔

“تم مجھے گھر سے نکال رہی ہو؟”زارون نے بےیقینی سے پوچھا تھا۔

“ہاں نکال رہی ہوں۔”اس کے جواب پر وہ جل بھن گیا تھا۔

“مجھے پینی بھی نہیں ہے تمہارے ہاتھ کی بدمزہ چائے۔جا رہا ہوں میں…!”زارون نے اٹھتے ساتھ کہا تھا۔

“اگر اتنے ہی غیرت مند ہیں نا تو واپس اس گھر کا رخ مت کیجیے گا۔”انارا نے شان بےنیازی سے کہا تھا۔

“چند پیسے کیا آ گئے ہاتھ میں،لوگ خود کو پتا نہیں کیا سمجھنے لگ گئے ہیں؟”اسے ایک گھوری سے نوازتے زارون نے اپنی گاڑی کی چابی اٹھائی تھی۔ذکیہ بیگم نے اسے روکنے کی بھرپور کوشش کی تھی مگر وہ داریاء کا ہاتھ پکڑے جا چکا تھا۔اس کے گھر سے جانے کے بعد انارا نے مسکرا کر اپنے ہاتھ جھاڑے تھے۔زندگی اپنے معمول پر لوٹ آئی تھی۔ان دونوں کی دشمنی کا آغاز پھر سے ہو چکا تھا۔