Mohabbat zehr e hayat hai afsana by Aish
میں تمہیں طلاق دیتا ہوں لفظ لفظ طلاق کے تین لفظ میرے حواسوں پر بجلی گرا گئے بے اختیار میں رو دی تم انم افندی ایک کمزور لڑکی مجھے۔۔۔۔مجھے ہرانے چلی تھی عدن بزداری کو۔جس نے کبھی ہار سیکھی ہی نہیں قصور تمہارا تھا تم نے مجھے نظر انداز کر کے میری انا کو چکنا چور کرنا چاہا مگر تم یہ نہیں جانتی تھی کہ تم لڑکیا تو مردوں کے لیے اس چیونٹی کی مانند ہو جسے ہم جیسے سارے مرد اپنے پیروں تلے کو چل دیتے ہیں ہماری انا گوارا نہیں کرتی کہ کوئی کمزور عورت ہمیں ہارنے کے فرض سے روشناس کرواۓ۔چہ چہ چہ۔محبت کی ماری بیچاری لڑکیاں۔۔۔۔۔۔اب میرا کام تمام ہوا تو ازاد ہو جہاں چاہو جا سکتی ہو
