Skip to content
Home » Amna Ramzan

Amna Ramzan

Qatal masoom tha by Amna Ramzan Complete novel

  • by

شانی برو کیا لگ رہا جانی انیس شانی کو سر تا پیر تھری پیس میں دیکھ کر تعریف کیے بنا نہ رہ سکا اور گلے لگا لیا

ارے جب میرے شہزادے نے اتنا شاندار ماحول بنایا ہو تو میں کیسے نہ ریڈی ہو کے آتا انیس نے بالوں کو سیٹ کرتے ہوئے کہا پاس کھڑے لڑکے کا انیس اور شانی کی ایک دوسرے تعریف کے پل باندھتے دیکھ کر تنزیہ ہنسی نکل گئی

کیا ہوا روشی شانی نے روشی کو ہنستے دیکھ کر پوچھا

کچھ نہیں بس وہ سامنے والی لڑکی کودیکھ کر ہنسی آئی کیسے عجیب سی ڈریسنگ کی ہے اور اسکو لگ رہا ہے وہ پیاری لگ رہی ہے شوخی

نہ نہ بچہ لڑکیوں کو ایسے نہیں کہتے لڑکیاں تو ساری پیاری ہوتی ہے جب تک ہو اپکے پاس نہ ہو انیس نے شانی کی بات ٹوکتے ہوئے کہا جس پر وہ تینوں کہکا لگا کر ہنسے

اچھا اب یہی کھڑے رہے گے یا اصلی پارٹی

شششششش انیس نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے کہا

ایسی باتیں سب کے سامنے نہیں کرتے اصلی پارٹی بھی ہوگی مہمان خصوصی تو آنے دے میرے جانی اب چپ کر کے نکل انیس نے آنکھ سے اشارہ کرتے ہوئے شانی کو یہ کہ کر اندر جانے کو کہا جس پر شانی اور روشی اندر لان میں چلے گئے

انیس بیسٹی کیسے ہو سامنے سے آتی گرین کلر کی میکسی پہنے ایک خوش شکل لڑکی نے کہا

نوری میری جان کیس ہو انیس نے اگے بڑھ کر اسکو گلے لگاتے ہوئے کہا

میں بلکل ٹھیک نوری نےاپنے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا

اچھا تو تم اکیلی آئی ہو تم تو کہ رہی تھی تم اپنی دوستیں بھی ساتھ لاو گی پارٹی کو مزید شاندار بنانے کے لیے کہا ہے تمہاری وہ حسین دوستیں انیس نے نوری کی چہرے پر آتی لٹ کو اپنی انگلی سے پیچھے کرتے ہوئے کہا

یار کسی کے گھر والے نہیں مانے لیٹ نائٹ پارٹی کے لیے بس ایک آئی ہے وہ کار پارک کر کے آتی ہی ہوگی نوری نے انیس کا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹاتے ہوئے کہا

نوری نوری پیچھے سے بلیک ڈریس میں آتی لڑکی نے نوری کو اواز دی تو نوری اور انیس دونوں اسی کی طرف متوجہ ہو گئے

واو یار تیری تو ایک بیسٹی ہی کافی ہے میری پارٹی میں جان ڈالنے کے لیے انیس نے سر تا پیر اس لڑکی کو گھورتے ہوئے کہا

ہینا نوری نے انکھ دبا کر انیس کو ایشارہ کرتے ہوئے کہا

چل ملوائے گی نہیں اس سے انیس نے نوری کو کندھا مارتے ہوئے کہا