Aseer e mohabbat novel by Angel Sani
مجھ۔۔ مجھے۔۔ بھوک۔۔ لگی ہے۔۔ وہ چہرا ایک بار پھر جھکا کر شرمندہ لہجے میں بولی تھی۔۔
تم بیٹھو میں لے آتا ہوں۔۔ وہ کہتا ہوا بغیر اسکی جانب دیکھے کمرے سے باہر نکلا تھا۔۔ سنائیہ نے اسکی پشت کو نظروں سے اوجھل ہوتے دیکھا تھا۔۔ اور ہچکیوں میں روتی ہوئی بیڈ پر آ بیٹھی تھی۔۔ وہ اسکی بے رخی سہہ نہیں پا رہی تھی۔۔
تقریباً پانچ منٹ بعد ہی وہ ہاتھ میں ایک ٹرے پکڑے کمرے میں داخل ہوا جس میں ایک دودھ کا گلاس اور دو تین سینڈوچ تھے۔۔ سنائیہ نے اسے اندر آتے دیکھ اپنی گال پر بہتے آنسو صاف کیے اور چہرہ جھکا کر بیٹھ گئی۔ سنان کو تکلیف تو ہوئی تھی اسے ایسے دیکھ کر پر فلحال وہ اپنے اوپر کھول چڑھائے ہوئے تھا۔۔ اس نے خاموشی سے ٹرے لے جا کر سنائیہ کے پاس رکھ دیا۔ اور خود واپس جا کر صوفے پر بیٹھ گیا۔۔ سنائیہ نے فوراً پلٹ کر اس کی جانب دیکھا تھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا خاموش اور سنجیدہ نگاہوں سے۔ کچھ اور چاہیے کیا؟ اسے خود کی جانب تکتا پا کر سنان نے نرمی سے پوچھا۔۔اس کا یہ نرم لہجہ اسے پھر سے رلا رہا تھا۔ اس کے گلے میں ایک گلٹی ابھر کا معدوم ہوئی۔ وہ محض نفی میں سر ہلا گئی۔۔ پھر کھا کیوں نہیں رہی ہو؟ اس نے فوراً پوچھا۔۔ آ۔۔ آپ نے کچھ کھایا تھا؟ وہ چور سے لہجے میں کہتی نظریں جھکا گئی۔ سنان بس اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔ اس وقت اسے سامنے بیٹھی اس لڑکی پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔ ہاں میں نے کھا لیا تھا۔ اس نے کہا تو سنائیہ نے پھر اسے دیکھا۔ وہ جانتی تھی وہ جھوٹ کہہ رہا تھا اس نے کچھ نہیں کھایا ہوگا اور نا ہی وہ اب کچھ کھانے والا تھا۔ اس لیے خود بھی ٹرے کو سائیڈ پر دھکیل کر رکھتی واپس لیٹنے لگی۔سنان نے ماتھے پر بل ڈال کر اسے دیکھا۔۔ سنائیہ کھانا کھا کر سونا نہیں تو میں بہت برا پیش آؤں گا۔۔ وہ ذرا سختی سے اسے دیکھ کر بولا جو تقریباً لیٹ ہی چکی تھی۔ مجھے نہیں کھانا۔۔ خفگی بھرے لہجے میں کہتی وہ اسکی جانب پشت کیے سسکیاں بھر رہی تھی۔ سنان نے اس کی پشت کو دیکھ کر ایک گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا پھر اٹھ کے اس کے سر پر جا کھڑا ہوا۔۔ سنائیہ چپ چاپ اٹھو یہ سینڈوچ کھاؤ اور دودھ پیو پھر میڈیسن کھا کر سونا۔۔ وہ قدرے سنجیدگی سے بولا۔۔ سنائیہ نے لیٹے لیٹے ہی نظروں کا زاویہ اسکی جانب گھمایا پھر صاف غضے اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کروٹ دوسری جانب موڑ لی۔ سنان نے لب بھینچ تکیے پر بکھرے اس کے بالوں دیکھا پھر اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔۔ سنائیہ نے بخوبی اس کے اپنے پیچھے بیٹھتا محسوس کیا تھا۔ سنائیہ اٹھو۔۔؟ سنان نے اس کا کندھا ہلایا پر وہ ٹس سے مس نا ہوئی۔ مجھے بھوک نہیں ہے۔۔ اس نے بغیر رخ موڑے کہا۔ سنان کا ضبط جواب دے رہا تھا۔ اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے اسے زبردستی بازو سے پکڑ کر اٹھانا چاہا۔ میں نے کہا نا مجھے نہیں کھانا کچھ بھی۔ آپ جائیں اور جا کر سو جائیں۔ آپ کو کیا ہے میں کھاؤں یا نا کھاؤں جیوں یا مرو۔۔ وہ با مشکل خود کو رونے سے باز رکھتے ہوئے بولی۔۔ تمہارے جینے مرنے یا کھانے یا نا کھانے سے مجھے ہی فرق پڑتا ہے اور پڑتا رہے گا سنا تم نے اب
فضول باتیں کرنا بند کرو اور چپ چاپ کھانا کھاؤ۔نہیں تو اچھا نہیں ہوگا۔۔وہ تنبیہ کرتا ہوا کہتا اسے بازو سے پکڑ کر زبردستی اٹھانے لگا۔۔

