Anjana ishq by Farih Complete novel
“کون ہو تم “۔
وہ کھڑا ہوتے ہوئے دھاڑا ۔
“آواز آہستہ کرو بہری نہیں ہوں میں “۔
مرحا تھوڑے غصے سے بولی ۔
“او تو تم مجھے میرے ہی آفس میں مجھے ہی آواز آہستہ کرنے کو کہ رہی ہو “۔
رماز طنزیہ انداز میں بولا ۔
“میں مرحا حسین آفندی ہوں تمہاری رایول کمپنی کی مالکن اور حسین آفندی کی ایک لوتی بیٹی “۔
وہ سکون سے کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی اور رماز مالک کو حیران کر گئی ۔
“تو تم یہاں کیا کرنے آئی ہو “۔
وہ غصے سے بولا اور اپنی چیئر پر بیٹھ گیا ۔
“میں نے نہ نیا نیا بزنس میں قدم رکھا ہے تو بس اپنے دشمن کو دیکھنے آئی ہو “۔
وہ مسکرا کر سکون سے بولی ۔
