Skip to content
Home » Apni pehchan ki talash by Khushi

Apni pehchan ki talash by Khushi

Apni pehchan ki talash by Khushi

  • by

وہ ننگے پاؤں سڑک پر بھاگ رہی تھی اُن لوگوں سے بچ کر جن سے اس کی جان کو سخت خطرہ تھا۔ دوبٹے سے بےنیاز، بال بکھرے ہوئے وہ بس اندھا دھند بھاگی جا رہی تھی۔وہ بس اتنا جانتی تھی کے اگر آج رکی تو اپنی جان گنوا دے گی اور وہ پانچ سے سات لوگ اس کے پیچھے اسے پکڑنے کی خاطر تھے۔ پھر اچانک اس کا پاؤں پھسلا اور اسے لگا یہی اس کی زندگی کا اختتام تھا۔ اُن بندوں میں سے ایک نے بندوق نکالی اور اس کے سر پر رکھی “کوئی آخری خواہش” اور وہ بس آنسوؤں سے تر چہرے کے ساتھ نہ میں سر ہلا رہی تھی اور پھر اچانک “ٹھاہ”

****************