Aziyat namaby Bilal Anayat short novel
میری ماں اور باپ دونوں ہی بہت اچھے انسان تھی ان کی زندگی اجڑنے کا ملال اج بھی مجھے چین سے سونے نہیں دیتا
17سالوں میں میں کبھی چین سے نہیں سو پایا میری زندگی میں انے والے ہر انسان نے مجھے کٹ پتلی کی طرح نچایا
اج میرا کوئی بھی نہیں ہے میں تنہا ہوں رشتوں پہ مجھے اعتبار ہی نہیں رہا کبھی کبھی تو دل کرتا ہے میں اپنا دل نکال کے خود اس پر چھریاں چلاؤں میں بے بس ہوں مجھے آگے جانے کے لیے راستہ نظر ہی نہیں آ رہا
مجھے اج تک کوئی انسان نہیں سمجھ سکا بس میں فرار چاہتا ہوں ان رشتوں سے ان الجھنوں سے اپنی زندگی سے
جیسے لوگ زندگی کہتے ہیں میں اسے اذیت نامہ کہتا ہوں بس سانسیں ہی چل رہی ہیں اندر سے ہر خواہش مر چکی ہے میں بھی اندر سے مرا ہوا ہوں
