Tere ishq mein hari piya novel by Biya Naz
اے اللہ میں بے وقوف تھا جو ایک سراب کے پیچھے بھاگتا رہا۔ بھاگتے بھاگتے کب نہ جانے کب میں ایک ایسی لڑکی کو اذیت دینے لگ گیا جو میری سب کچھ تھی۔ میرا محرم تھی۔ میرا لباس تھی۔ اے اللہ میں نے اس کی حق تلفی کی۔ اسے ایک ایسے جرم کی سزا دی جو اس نے کبھی کیا ہی نہیں تھا۔ اے اللہ تو اس کو زندگی بخش دے۔ میں اس کا بہت خیال رکھوں گا۔ اے اللہ میں نے سنا تھا کہ نکاح کے دو بولوں میں بڑی طاقت ہوتی ہے وہ دونوں دلوں میں محبت جگا دیتی ہیں۔ جانے کب اس کا پیار میرے دل میں گھر کر گیا۔ اس کی آواز اس کا انداز خیال، اسکی ایمانداری،اس کا اللہ پر بھروسہ بلکہ وہ خود میرے دل میں سب سے اونچی سنگھاسن پر بیٹھ گئی۔ اے اللہ میں معافی چاہتا ہوں اپنے ہر اس فعل کی جو میں نے اسمائرہ کے ساتھ روا رکھا اے اللہ میری زندگی کی واحد خوشی ہے۔ میرے مولا تو مجھ خطا کار کی سن لے اور اسمائرہ کو نئی زندگی بخش دے۔ اے اللہ تو کرم فرما دے مولا اے اللہ

