Skip to content
Home » Biya Naz

Biya Naz

Tere ishq mein hari piya novel by Biya Naz

  • by

اے اللہ میں بے وقوف تھا جو ایک سراب کے پیچھے بھاگتا رہا۔ بھاگتے بھاگتے کب نہ جانے کب میں ایک ایسی لڑکی کو اذیت دینے لگ گیا جو میری سب کچھ تھی۔ میرا محرم تھی۔ میرا لباس تھی۔ اے اللہ میں نے اس کی حق تلفی کی۔ اسے ایک ایسے جرم کی سزا دی جو اس نے کبھی کیا ہی نہیں تھا۔ اے اللہ تو اس کو زندگی بخش دے۔ میں اس کا بہت خیال رکھوں گا۔ اے اللہ میں نے سنا تھا کہ نکاح کے دو بولوں میں بڑی طاقت ہوتی ہے وہ دونوں دلوں میں محبت جگا دیتی ہیں۔ جانے کب اس کا پیار میرے دل میں گھر کر گیا۔ اس کی آواز اس کا انداز خیال، اسکی ایمانداری،اس کا اللہ پر بھروسہ بلکہ وہ خود میرے دل میں سب سے اونچی سنگھاسن پر بیٹھ گئی۔ اے اللہ میں معافی چاہتا ہوں اپنے ہر اس فعل کی جو میں نے اسمائرہ کے ساتھ روا رکھا اے اللہ میری زندگی کی واحد خوشی ہے۔ میرے مولا تو مجھ خطا کار کی سن لے اور اسمائرہ کو نئی زندگی بخش دے۔ اے اللہ تو کرم فرما دے مولا اے اللہ

Dhoop aur chaon novel by Biya Naz

تم ایک عام عورت نہیں ہو ایک بہادرسپاہی کی بیوی ہو جو کہ کبھی ہمت نہیں ہار سکتی اسکا حوصلہ چٹانوں جیسا ہے اور وہ مضبوط ہے جیسے کہ پہاڑ ہو۔ لاریب میری جان تمہاری آنکھوں میں آنسو تمہاری کمزوری کی علامت ہے۔ اگر تم اداس رہو گی تو میں اپنے فرض اورمان کو کیسے نبھا سکوں گا۔ تم مجھ سے وعدہ کرہ کہ کبھی ان حسین آنکھوں میں آنسو نہیں آئیں گے چاہے کہ میرے جسد خاکی پرچم میں لپٹا ہواکیوں نہ آئے میں ضرور لوٹ کر آؤں گا غازی بن کر یا شہید بن کر۔ میری خواہش ہے کہ میں اپنے بچوں کو اپنے ہا تھوں میں لو ں انکو اپنی گود میں کھیلاؤں لیکن زندگی اور موت صرف اس باری تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے مجھ سے وعدہ کرو تم میرے بچوں کو ایک چٹان کی طرح مضبوط بناؤ گی۔ اور چاہے میں ساتھ ہوں یا نہیں لاریب نے تڑپ کے میجر ریحان کے منہ پر ہا تھ رکھ دیئے اور شکوہ بھر نظروں سے دیکھا۔ آپکی لاریب کمزورنہیں ہے ریحان وہ ایک بہادر سپاہی کی بیوی ہے۔ آپ مطمئن رہیں یہ کہنے کی دیر تھی کہ ریحان کے اندر سکون کی لہر دوڑ گئی۔ اور لاریب کے ماتھے پر اپنے ہونٹ ثبت کیے اور اسکو بانہوں میں بھینچ لیا کیونکہ یہ لمحہ انکے لیے بھی بہت مشکل تھا کافی دیر دونوں نے اپنے بچوں کے بارے میں مستقبل کے بارے میں بات کی اور بی جان کی آواز پر ڈائنگ ہال میں کھانے کی میز پر پہنچ گئے تھے کیونکہ آج ولی ہاؤس میں عید کا سماں تھا کہ سب اکٹھے ایک ساتھ میجر ریحان کو دعاوں کے سائے میں رخصت کرنے کے لیے آئے تھے کہ ملک و قوم کے لیے جان دینے کیلئے ولی ہاؤس کا بچہ بچہ تیار تھا۔