Chamakta hua chand by Areeba Awais Complete novel
ویسے بابا کے ساتھ آج تمہیں بھی لاہور کی فیکٹری کے وزٹ پہ جانا چاہئے تھا۔ شہرام نے بہت گہری نگاہوں سے اس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا،جو بلیک تری پیس میں بال جیل سے ایک طرف کو جمائے خاصا ڈیسنٹ لگ رہا تھا۔
اس کی بات پر نوفل بغیر اسے دیکھے مسکرایا۔
شہرام نے دیکھا مسکراتے ہوتے اس کی آنکھیں یک دم چمکی تھیں۔
جانا تو چاہتا تھا پر،ہائے یہ ظالم سماج۔ نوفل نے ٹھنڈی سانس بھری۔
شرم کرو میرے منہ پر ہی میرے والدِ محترم کو ظالم سماج کہہ رھے ہو۔ اسے یاد آیا صبح رحمت عالم صاحب نے اسے شہرام کے ساتھ میٹنگ اٹینڈ کرنے کا کہا تھا۔ اس نے مسکراہٹ دباتے بظاہر شکائتی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
ارے آپ کے والدِ محترم کو کون ظالم سماج کہہ رہا ھے میں تو اپنے تایا حضور کو کہہ رہا تھا۔
اس نے کچھ اس انداز میں کہا کہ شہرام نے باقاعدہ قہقہ لگایا۔
ویسے کیا واقع تم سیریس ہو؟کچھ توقف کے بعد وہ گویا ہوا۔
نوفل نے لیپ ٹاپ کو بند کیا۔ چہرے پہ یک دم ہی سنجیدگی کے تاثرات نمایاں ہوئے تھے۔
تم اب تک یہ اندازہ نہیں لگا پائے کہ میں سیریس ہوں یا نہیں۔ پیچھے کو ٹیک لگا کر کرسی کے ہتھوں پر دونوں بازوں جماتے ہوئے شہرام کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
نہیں اندازہ تو مجھے ھے۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر، کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
مگر تم جانتے ہواچھی طرح کہ، برادری سے باہر شادی کرنا ہمارے خاندان کا رواج نہیں ھے، جبکہ تم یہ بھی جانتے ہو کے کہ برادری سے باہر پسند کی شادی پر طاہر چچا ابھی تک خاندان بدر ھیں۔ شہرام کے چہرے پر اس کے لئے تفکرات کی پرچھائی صاف دیکھی جا سکتی تھی۔
جانتا ہوں۔ نوفل نے ایک گہری سانس لبوں سے خارج کی۔
مگر میں طاہر چچا کی طرح چپ چاپ گھر چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ میں اپنے حق کے لئے بولوں گا،پسند کی شادی قانوناً کوئی جرم نہیں ھے، نہ ذات برادری سے ہٹ کر شادی کرنا کوئی ایسا ایشو ھے، یہ آغا جان کے خود ساختہ بنائے ہوئے قانون ھیں،یہ نوفل احمد عالم پر لاگو نہیں ہوتے۔ نہ ہی میں ان کو ایسا کرنے دوں گا۔ وہ ٹھوس لہجے میں بولا۔
تو گویا ایک پر زور جنگ عظیم ہونا باقی ھے۔ شہرام نے موبائل اور وائلٹ اٹھا کر چئیر سے اٹھتے ہوئے کہا ۔
ایک کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہو سکتا ھے کہ تمہارا نظرے انتخاب بھی خاندان سے باہر کسی پر جا ٹھرے۔ نوفل بھی کرسی کھسکا کر اٹھتے ہوئے کچھ شوخ لہجے میں بولا۔
