Dastan e ishq novel by Ayesha Rajpoot
ارررےے میں تم لوگوں کو بتاتی ہوں شہر کے لوگ کیسے ہوتے ہیں لڑکیوں کے نیلے پیلے بال چھوٹے چھعٹے کپڑے جن سے ان کا مکمل جسم تک نہیں چھپتا نہ ہی بڑوں کا ادب اور نہ ہی چھوٹوں سے بات کرنے کی تمیز اور تو اور لڑکے توبہ توبہ کانوں میں بالیاں ہاتھوں میں بینڈز اور ٹھرکی لفنگے الگ سے توبہ توبہ اللہ معاف کرے پلوشے نے مکمل کانوں کو ہاتھ لگایا
اچھا جی اور تمہارے بدر ان کے بارے میں کیا خیال ہے اس کے بارے میں سچ کہوں تو بڑا ہی گندا خیال ہے ویسے بھی وہ تو رہتا بھی باہر ہے اور باہر کے ملک کا ماحول تو اور گندا ہوتا ہے
میں تو بابا سے کہ کر اس رشتے سے منع کرو گی ہلوشہ نے اپنا فیصلہ سنایا
پھر ہمارے لالا بھی تو باہر سے پڑھ کر اے ہیں نہ تانیہ نے بڑی معصومیت سے پوچھا
اررےے پاگل وہ تو ہمارے لالا ہیں اور ہمارے بھائی سب سے اچھے ہیں اب سارے لوگ ایسے تھوڑی نہ ہوتے ہیں
اور تمہیں کیسے پتہ کہ شہر کے لوگ ایسے ہوتے ہیں تانیہ نے مشکوک نظروں سے پلوشے کو دیکھا ارے میں نے فلموں میں دیکھا ہے اور فلمیں کبھی جھوٹ نہیں بولتی پلوشہ نے جیسے ہاتھ صاف کیے تھے اتنی دیر میں عائمہ باہر ائی ان کے چہرے سے مسکراہٹ جا ہی نہیں رہی تھی
ارے بچوں کیا بات کر رہے ہو کچھ نہیں مامی سائیں پلوشے نے جواب دیا جب تانیہ وہا ای جو کہ اس وقت پینٹ اور شرٹ میں تھی اے سنو جاو میرے لیے جوس لے کر او اس نے انتہائ بتمیزی سے عائمہ بیگم کو مخاطب کیا
تمیز سے بات کرو تم سے بڑی ہیں وہ پلوشہ نے غڈے سے کہا
کوئی بات نہیں بیٹا میں لے کر اتی ہوں عائمہ نے کہا اور وہاں سے چلی گئں
اووہوو کیا ہوا پلوشہ میں صرف اس کو اس کی اوکات دکھا رہی تھی جو لوگ گھر سے بھاگ کر ائی ہوں ایسا ہی تو ہوتا ہے ان کے ساتھ اس کی حیثیت میرے سامنے یہ ہے کہ جیسے ایک ملکہ اور نوکرانی
تم جیسی کہ منہ لگنا ہی فضول ہے پلوشے یہ کہہ کر تانیہ کو لے کر چلی گئی
