Dosti ka bharam novel by Ayesha Malik
“ہی۔۔ہیلو پلیز یار میری بات سنو کال مت کاٹنا ” اس کے فون اٹھاتے ہی وہ بولا شروع ہوئی مبادلہ کہی پیچھے دو مہنوں کی طرح وہ پھر سے نہ فون بند کر دے لیکن مقابل کی طرف سے خاموشی تھی
“پلیز میری بات کا یقین کرو میں نے ایسا کچھ نہیں کیا تم تو جانتی ہو نا مجھے میں بھلا ایسا کیوں کروں گی ” وہ آنسو بہاتی بولی مقابل اب بھی کچھ نہیں بولا تھا
“تم سن رہی ہو نا میری بات؟ تمہیں میری بات پر یقین ہے نا ؟ وہ کیسی خدشے کے تحت بولی جب مقابل کا طنزیہ قہقہہ سپیکر سے گوجا اور اس کا خدشہ سچ ثابت ہوا اسے اس پر یقین نہیں رہا تھا
“ی ۔۔یار میں مر جاؤں گی تمہاری بے روخی مجھے مار دے گی ” وہ ازیت سے کہتی ہوئی بولی
“تو مر جاؤ لیکن آئندہ مجھے کال کرنے کی ہمت مت کرنا ” وہ بے روخی سے کہتی کال کاٹ گئی جبکہ اسے لگا وہ واقعی ہی مر جائے گی ہاں وہ مر ہی تو رہی تھی اسے اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا تو بے اختیار اپنے سینے کو مسلا وہ جلدی سے کھڑکی کھول کے تازہ ہوا کو اپنے اندر اتارنے کے لیے گہرے گہرے سانس بھرنے لگی جب اچانک اس نے دوبارہ اپنے سینے کو مسلا آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی طرح بہنے لگے اسے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں بند ہوتی محسوس ہوئی تو ایک دم سے نیچے گری بند آنکھوں کے سامنے بھی اسے وہ سفاک بے رحم ہی دیکھائی دے رہی تھی جس کی وجہ سے وہ اس حالت میں پہنچ چکی تھی وہ مر رہی تھی آہستہ آہستہ سب کچھ آنکھوں کے آگے مٹتا ہوا محسوس ہوا
کیوں دیا درد ہمہیں ۔۔
ہم آج تک نہ سمجھے ۔۔
برے ہے کیا اتنے ۔۔
تم آ نہ سکے جو ملنے ۔۔
تو ہم کو بھول گیا۔۔
بس یار ہم ہی پاگل تھے ۔۔
سوچا تمہیں جو رات دن ۔۔۔
——————–
