میاں یہ کالے پیلے داغ کیسے لگ گئے۔ سب خیر تو ہے؟ انور کی سوجی ہوئی آنکھ اور بگڑا ہوا چہرہ دیکھ کر ایوب صاحب تلملا گئے۔
درد کی تلاش میں دھکے کھاتا پھر رہا ہوں۔ انور نے برا سا منہ بنایا۔
میاں جو تیری حالت ہے بات دھکوں سے آگے کی لگتی ہے۔ کیا لاتیں اور مکے بھی کھا کر آیا ہے؟ ایوب صاحب نے کہا اور اٹھ کر چائے بنانے چل دئے۔
کیا بتاؤں۔۔ اپنی درد بھری داستان۔ سویرے سویرے نوکری چلی گئی۔ اماں کو معلوم ہوا تو چمڑے کی چپل سے کاری ضرب لگا ڈالی۔ ایک ضرب سے تو دل نہیں بھرا ان کا۔ تاک تاک کر نشانہ باندھا ہے بڑی بی نے۔ اپنی کالی آنکھ پر ہاتھ رکھتا انور درد سے کراہنے لگا۔
ہاں ویسے تیرے گھر والوں کا نشانہ تو عمدہ ہے۔ کیسے عین منزل مقصود پہ وار کیا ہے۔ خیر کوئی دوا دارو کر لے وگرنہ تیری جو حالت ہے، درد کو چھوڑ تو، تو مجھے دنیا سے کوچ کرتا دکھائی پڑتا ہے۔
ایوب صاحب داڑھی میں ہاتھ پھیرتے اندازے لگا رہے تھے۔
نہ چاچا، یہی تو وہ درد ہے جس کی مجھے تلاش تھی۔ نوکری چھوٹ گئی، گھر والوں نے کنارہ کر لیا، زندگی میں کوئی امید کی کرن دکھائی نہیں دیتی۔ اب یہ درد میری شاعری میں جھلکے گا تو دیکھنا کیسے بڑے بڑے تخلیق کار اور شاعروں کے کان کتروں گا۔ انور نے شیخی بھگاری۔