Skip to content
Home » Dua Aslam

Dua Aslam

Nissa by Dua Aslam Complete novel

  • by

خودکشی کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فعل حرام ہے۔ اِس کا مرتکب اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور جہنمی ہے۔ قرآن و حدیث کے دلائل پر بحث سے قبل آئیے دیکھتے ہیں کہ اسلام نے اسے اتنا بڑا جرم کیوں قرار دیا۔ درحقیقت انسان کا اپنا جسم اور زندگی اس کی ذاتی ملکیت اور کسبی نہیں بلکہ اﷲ کی عطا کردہ امانت ہیں۔ زندگی اللہ تعالیٰ کی ایسی عظیم نعمت ہے جو بقیہ تمام نعمتوں کے لیے اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔

اسی لیے اسلام نے جسم و جاں کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے تمام افرادِ معاشرہ کو اس امر کا پابند کیا ہے کہ وہ بہرصورت زندگی کی حفاظت کریں۔ اسلام نے ان اسباب اور موانعات کے تدارک پر مبنی تعلیمات بھی اسی لیے دی ہیں تاکہ انسانی زندگی پوری حفاظت و توانائی کے ساتھ کارخانہِ قدرت کے لیے کار آمد رہے۔ یہی وجہ ہے اسلام نے خودکشی (suicide) کو حرام قرار دیا ہے۔ اسلام کسی انسان کو خود اپنی جان تلف کرنے کی ہرگزاجازت نہیں دیتا۔

2۔ قرآن و حدیث میں خودکشی کی ممانعت جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ زندگی اور موت کا مالکِ حقیقی اﷲ تعالیٰ ہے۔ جس طرح کسی دوسرے شخص کو موت کے گھاٹ اتارنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے، اُسی طرح اپنی زندگی کو ختم کرنا یا اسے بلاوجہ تلف کرنا بھی اﷲ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ فعل ہے۔

Raah e malal by Dua Aslam Complete novel

  • by

حریم خان ۔۔۔۔” اس کی نگاہیں اس خط پر مرکوز تھی

میں امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوگی۔۔۔۔؟؟( اس کا دل چاہا وہ کہہ دے میں خیریت سے نہیں ہوں ) جب تک آپ کے ہاتھ میں یہ خط آئے گا تب تک شاید میں اس دنیا میں نا ہوں اور اگر ہوا بھی تو شاید اس شہر اور ملک میں نا ہوں۔۔۔” میرا فون گم ہوگیا تھا جس کی وجہ سے میں تم سے کانٹیکٹ نہیں کر سکا اور نا مجھے تمہارا نمبر یاد تھا ۔۔۔۔۔” اسے لگا وہ اس کے سامنے کھڑا اسے خود کہہ رہا ہے ۔۔۔۔” میں جانتا ہوں میں وعدہ نہیں نبھا سکا میں نہیں آسکا میرے لیے حالات بہت تنگ ہو گئے تھے اسوقت میں بہت پریشان تھا حریم اور سوچ رہا تھا کہ اگر میری دوست حریم اگر یہاں ہوتی تو میری پریشانیوں کو گولی مار دیتی ۔۔۔۔۔”( اس سطر کو پڑھتے وقت اس کی نم آنکھیں مسکرائی تھی۔۔) مگر افسوس تم یہاں نہیں ہو میں جانتا ہوں ہم دونوں دوست تھے ، ہے اور ہمیشہ رہے گے۔۔۔۔”( وہ دوستی کی بات کر رہا تھا یہاں تو حریم خان کو اس سے چاہت ہو گئی تھی۔.) ۔۔۔۔۔پھر ہم ساتھ ہو یا نا ہو ۔۔۔۔”( اس سطر کو پڑھتے وقت اس نے آنکھیں درڈ سے میچی تھی اور ایک آنسوں ٹوٹ کر خط پر گرا تھا۔۔۔) حریم میں تم سے معافی چاہتا ہوں میں نہیں آسکا اور شاید نا آسکوں مجھے معاف کر دینا اس خط کے ساتھ جو چیز میں نے رکھی ہے وہ مجھے بہت عزیز ہے اور اپنی عزیز چیز میں تمہارے حوالے کر رہا ہوں پتا نہیں یہ خط تمہیں ملے گا بھی یا نہیں یا تم مجھے بھول جاؤ گی …( وہ بھولنے کی بات کر رہا تھا اور وہ تو ان پانچ سالوں میں جسے نہیں بھولی تھی وہ داؤد رحمان تھا۔۔)اور میں جانتا ہوں حریم خان داؤد رحمان کو دوستی کے لیے معاف کر دے گی وہ داؤد رحمان کی طرح دوستی کا بھرم نہیں توڑے گی۔۔۔” خدا حافض “( آخری الفاظ پڑھتے وقت اس کا دل چاہا وہ اس خط میں سے داؤد رحمان کو نکالے اور کہے ایسے کیسے تم خدا حافض کہہ سکتے ہو ) ۔۔۔دو تین سطر چھوڑ کر لکھا تھا تمہارا دوست ۔۔۔۔” اور اس سے نیچے لکھا تھا ۔۔۔” داؤد رحمان ۔۔۔۔” نام کے ساتھ مورخہ لکھی تھی۔۔۔٫” تین جولائی 2019۔۔۔” ( ایک سحر تھا۔جو ٹوٹا تھا ) اس کی آنکھوں سے آنسوں بہہ کر خط پر گر رہے تھے وہ اس خط کو پکڑے نیچے بیٹھتی چلی گئی اس نے خط کے ساتھ رکھی چیز کو دیکھا وہ ایک رنگ تھی اس پر ڈی لکھا ہوا تھا وہ خط کو اور اس رنگ کو پکڑے مرے ہوئے قدموں سے باہر آئی تھی باہر اندھیرا چھانے لگا تھا اسے سنبل نے ایسے دیکھا تو فورا اس کی طرف لپکی ۔۔۔۔” کیا ہوا ۔۔۔۔؟؟