Dushman-e-Nafas Season 2 by Saira Ramzan Complete novel
ان کو لگتا ہے کہ وہ پرسکون زندگی گزارے گے غلط فہمی ہے تو بہت بڑی پر کوئی نہیں بہت ہی جلد دور بھی ہو جائے گی۔
مجھ سے میرا سب کچھ چھین کر وہ چین سے رہے اتنا شریف تو خیر کوئی مرد نہیں ہوتا۔
ایسا حشر کروں گا کہ اگلی ساتھ نسلوں تک ان میں سے کوئی مسکرا نا سکے گا پورا خاندان روئے گا تڑپے گا جینا بھول جائے گا۔ اور جب سارے زندہ لاش بن کر گھومیں گے تب جا کر میں مسکراؤں گا۔۔۔ میں ہنسوں گا۔
ہاں میں ہنسوں گا ان کے رونے پر ، تڑپنے پر، گھٹ گھٹ کے جینے پر، وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا مرر میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے کھلکھلا کر خود سے ہی باتیں کر رہا تھا۔
***
اب تم یہاں پر بیٹھ کر شاعری کرنا بند کرو اور میرے ساتھ چلو ازبیہ بھابھی تمہارا کب سے انتظار کر رہی ہیں؟
آریز نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ وہ آج بھی اتنا ہی خوبصورت تھا، وہی ماتھے پر بکھرے ہوئے بال، وہی شلوار قمیض پہنے، وہی ہلکی سبز آنکھوں والا خاموش مزاج لڑکا۔۔۔۔ اگرچہ حلیہ وہی تھا مگر اس ایک حادثے نے اس کی آنکھوں کی چمک چھین لی تھی وہ جو مسکراتا تھا تو کوئی بھی قائل ہو جاتا تھا وہ اب کہاں مسکرا سکتا تھا۔۔۔؟
ان تین مہینوں نے اس کے چہرے کی چمک چھین لی تھی اس کی آنکھوں کے نیچے حلقے تھے قبر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ نڈھال سا اٹھ کھڑا ہوا۔
آریز نے اس کی سائیڈ کا دروازہ کھولا تو وہ چپ چاپ اندر بیٹھ گیا گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔
زایان ۔۔۔!!!
