Ek thi heer by Aiman Akmal Complete novel
ہاۓ اللہ جی ایسا بھی میں نے کیا کر دیا جو اس ریسٹورنٹ کے سارے ویٹرز اور باہر کھڑے اتنے سارے گارڈز میرے پیچھے ہی پڑ گئے۔ وہ پھولتے سانس کے ساتھ ایک جگہ رکی اور پیچھے دیکھا۔ ابھی تو اسے کوئی بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہ ہاتھ میں نیلے رنگ کی فائل پکڑے سادہ سے جوڑے میں ملبوس سر پر سٹالر سے حجاب بناۓ ہوۓ تھی۔
اس نے سامنے دیکھا۔ اسے دہی بھلوں کا ٹھیلا نظر آیا۔ جلدی سے آگے بڑھتی وہ اس ٹھیلے سے کمر ٹکا کر بیٹھ گئی اور اپنی پھولتی سانسوں کی روانی کو درست کرنے لگی۔
اچانک ہی کوئی تیزی سے بھاگتے ہوۓ وہاں سے گزرا تھا۔ اس نے جلدی سے اپنے دوپٹے سے منہ ڈھانپا۔ ایسے ہی کتنے لوگ وہاں سے گزرے تھے۔ اور صد شکر کے ان میں سے کسی نے اسکو نہیں دیکھا تھا۔
اس نے وہ فائل اسی ٹھیلے پر رکھی اور کھڑی ہوئی۔ پتہ نہیں کیوں بھگا رہے ہیں مجھے۔۔۔؟ وہ اداسی سے بولی۔ اس ٹھیلے والے نے اسے دیکھا اور مؤدب انداز میں بولا۔ باجی خیریت ہے۔۔؟
کہاں بھیا۔۔۔؟ آج کل کے لوگ خیریت سے رہنے کہاں دیتے ہیں۔۔۔؟ وہ منہ بسورتے ہوئے بولی۔ ایک پلیٹ دہی بھلے۔۔۔ ساتھ ہی دہی بھلوں کا آڈر دیتے ادھر اُدھر دیکھنے لگی کہ کہیں اب بھی کوئی اس کے پیچھے نا ہو۔
آپ کو پتہ ہے پورے پچیس منٹ سے بھاگ رہی ہوں میں۔۔۔ اور تو اور میں نے تو صبح ناشتہ بھی نہیں کیا تھا۔ اب ایسا لگ رہا ہے جیسے ابھی زمین بوس ہو جاؤں گی۔ اور پتہ نہیں ان لوگوں کو کیا مسئلہ ہو گیا میرے ساتھ۔ مجھے چور بول رہے ہیں۔ اس دکاندار نے پلیٹ اسے پکڑائی تو وہ دہی بھلے کھانے لگی۔
ارررےےے۔۔۔۔ وہ دکاندار بولا۔
ایسے لوگوں کا نا جہنم میں الگ ہی بحریہ ٹاؤن ہو گا۔۔ مرچی زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ سوں سوں کرتے بول رہی تھی اور دہی بھلے بھی کھا رہی تھی۔
بالکل سہی۔۔۔ وہ اس کی تائید میں بولا۔
اب آپ ہی بتائیں یہ اتنی کیوٹ سی پیاری سی بھولی بھالی سی لڑکی کہیں سے چور لگتی ہے۔۔۔
ہاں۔۔۔ وہ پلیٹیں دھوتا ہوا بے دھیانی میں بولا۔
ہاں۔۔۔؟ اس لڑکی کا منہ میں چمچ لے جاتا ہوا ہاتھ رکا۔ اور وہ خونخوار نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے تیکھے لہجے میں بولی۔
وہ میرا مطلب ہے ہاں۔۔۔ ناں۔۔ ہاں۔۔۔ مگر۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ گڑبڑا گیا۔
وہ رہی۔۔۔۔ پکڑو اسے۔۔۔۔ اس کے کانوں میں مردانہ آواز گونجی اور ہاتھ میں پکڑا چمچ پلیٹ میں گرا۔
مر گئی۔۔۔۔ بھاگ ہیر۔۔۔۔ بھاگ لے۔۔۔۔ پلیٹ اس آدمی کو پکڑاتے وہ بغیر فائل لیے ہی وہاں سے بھاگی۔
ارے مگر میرے پیسے۔۔۔۔؟ اس آدمی نے پیچھے سے آواز لگائی۔
بعد میں دے دوں گی۔۔۔۔ وہ چلائی تھی اور رفتار میں سستی نا لائی۔
ہے لڑکی رکو۔۔۔۔ پکڑو اسے۔۔۔۔ اسے اپنے پیچھے سے بہت سی آوازیں سنائی دے رہی تھیں مگر وہ رک نہیں سکتی تھی۔
اتنی تیز بھاگتے ہوۓ جب اچانک ہی وہ رکی تو بمشکل گرنے سے سنبھلی تھی۔ اس نے سامنے دیکھا جہاں سے اسے اپنی طرف دو لوگ آتے ہوۓ دکھائی دیے۔
پھر جلدی سے وہ پلٹی تاکہ بھاگ سکے۔ مگر اس کے پیچھے بھی دو لوگ تھے۔ اس نے رونی صورت بنائی۔ اللہ جی جیسا کرو گے ویسا بھرو گے یہ تو سنا تھا مگر یہ جو بغیر کیے بھرنا پڑ رہا ہے نا یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ وہ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے رونی شکل بناتے دہائی دینے لگی۔
دیکھو میرے پاس نہیں آنا تم لوگ ورنہ۔۔۔۔ اس نے دونوں جانب گھوم گھوم کر دونوں اطراف میں کھڑے لوگوں کو انگلی اٹھا کر تنبیہ کی۔
ورنہ۔۔۔۔ سامنے سے ایک آدمی غصے سے بولا تھا۔ اس کا غصہ بنتا بھی تھا کب سے یہ لڑکی انہیں بھگا رہی تھی۔ مگر یہ سمجھنا مشکل ہو رہا تھا کہ کون کس کو بھگا رہا تھا۔
ورنہ میرے فارس کو اگر پتہ چلا نا کہ تم ایک معصوم سی بن باپ کی بچی کو اتنا پریشان کر رہے ہو تو بنا آواز کے بندہ مارنا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ وہ مصنوعی ناراضگی سے بولی۔
ابے یہ کون ہے۔۔۔؟ اس آدمی نے الجھی نظروں سے دوسرے آدمی کو دیکھا۔
پتہ نہیں۔۔۔۔ شاید شوہر ہو اسکا۔۔۔۔ وہ اپنی طرف سے اندازہ لگانے لگا۔
تو بی بی۔۔۔۔ وہ آدمی پھر سے بولا جب ہیر نے اسکی بات کاٹی۔
شوہر۔۔۔۔؟ وہ بےیقینی کے عالم میں چلائی۔
تو بھائی ہو گا۔۔۔۔؟ تیسرے آدمی نے اندازہ لگایا۔
بھائی۔۔۔۔؟ ہیر نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا اور پہاڑ کی طرح برس کر بولی۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ کہنے کی۔۔۔؟ ہیر کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس کا منہ نوچ لے۔
پھر بواۓ فرینڈ ہو گا۔۔۔؟ دوسرے آدمی نے کہا۔
بواۓ فرینڈ۔۔۔؟ وہ پھر سے بےیقینی کے عالم میں چلائی۔ اب کے اس کا غصہ آپے سے باہر ہو رہا ہے۔
میں نے تم لوگوں کی ایسی درگت بنانی ہے کہ ساری زندگی یاد رکھو گے۔ وہ طیش و اشتعال سے بولی۔
اچھی لڑکیاں بواۓ فرینڈ نہیں بناتی۔ تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی اسے میرا بواۓ فرینڈ بنانے کی۔۔۔۔؟
پھر بی بی تم خود ہی بتا دو کے کون ہے یہ؟ پہلا آدمی بےبس سا بولا تھا۔
چھوڑو اسے ہم جو کام کرنے آۓ ہیں وہ کرو۔۔۔ چوتھا آدمی بولا۔
وہ فائل کہاں ہے۔۔۔۔؟ اس آدمی نے غصے سے پوچھا تو جھماکے سے کچھ یاد آیا تھا۔ ہاۓ میں مر گئی۔ وہ فائل۔۔۔ اس کی آنکھوں میں مایوسی اتری۔ وہ فائل تو وہ اسی ٹھیلے پر چھوڑ آئی تھی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ زمین پر بیٹھ کر دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دے۔
اے لڑکی۔۔۔۔ ان میں سے ایک آدمی بولا۔
مجھ سے تمیز سے پیش آؤ ورنہ اگر میرے جہان کو پتہ لگ گیا نا کہ تم مجھے کب سے بھگا رہے ہو تو استنبول کے کتوں کو کھانے کے لیے تمہاری لاش بھی نہیں ملے گی۔ وہ انگلی اٹھا کر دھمکی آمیز لہجے میں بولی۔
لیکن ہم تو پاکستان میں ہیں۔۔۔۔ دوسرا آدمی الجھ کر بولا۔
