Skip to content
Home » Eman Babar

Eman Babar

Ajnabi si zindagi by Eman Babar Complete novel

  • by

“محبت محبت محبت …..” اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھی قلم ہاتھوں میں گھماتی وہ مسلسل اس لفظ کی گردان کر رہی تھی۔

بھوری آنکھوں میں حد درجہ کی سنجیدگی اور اُلجھن تھی۔ اپنے کالے بالوں کو جوڑے میں باندھے جس سے اگے کے کچھ بال لٹوں کی صورت میں چہرے پر آرہے تھے۔ وہ اُن کو غصے سے پیچھے کرتی تقریباً چیڑ سی گئی تھی ۔

“بھاڑ میں جاؤ ۔۔۔” غصے سے ڈائری بند کرتی وہ اُٹھ کھڑی ہوئی ۔ آپ اُس میں اور ہمت نہیں تھی ۔ ایسا اُس کے ساتھ تقریباً دو مہینے سے ہورہا تھا ۔

“مجھے لگتا میں کبھی رائٹر تھی ہی نہیں افف ۔۔۔” بالوں کو آزاد کرتی وہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف گی ۔ اُس کے بال زیادہ لمبے نہیں تھے بس کندھے تک ہی آتے تھے ۔ بال اب بکھر کر کندھوں تک اگئے تھے۔اُس کے بال نہ بلکل سیدھے تھے نہ ہی کرل ۔ وہ حد درجہ کہ سلکی مگر کناروں سے کرل تھے ۔

دونوں ہاتھوں کو چہرے پر رگڑتی وہ اب چارجنگ پر لگا اپنا موبائل دیکھ رہی تھی ۔

“محبت…” وہ ہلکا سا بولی ۔

Yaram biya by Eman Babar Complete novel

  • by

“بھائی آپ کی اُس بہن کا کیا نام تھا بیہ ….؟” یارم بات گھمائیں بنا بولتا ۔

“عبیرہ ؟” علی تصدیق کرتا ۔

“ہاں وہی مجھے اُس سے بات کرنی ہے ” یارم کا سانس پھولا ہوا تھا۔ وہ بہت جلدی میں اپنے گھر ایا تھا ۔

“ہیں ؟؟ سب ٹھیک ہے نا ؟” علی حیران ہوتا۔

“بھائی ۔۔” یارم بس اتنا بول پاتا ۔

“مجھے بتاؤ یارم کیا بات ہے ایسے ایک دم سے عبیرہ سے بات کرنے کا کیا خیال آگیا تمہیں ؟” وہ اب بڑے بھائی کی طرح پوچھتا۔

” بھائی وہ یہاں ہیں ۔” یارم کی آواز ایسی ہو جاتی جیسے وہ رو دے گا ۔”یہ کیا بول رہے وہ وہاں کیسے ہو سکتی پاگل تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے” علی ہس دیتا ۔

“آپ سمجھ نہیں رہے بھائی وہ ہر جگہ ہوتی ہے اسکی نقاب والی آنکھیں اُسکی آواز بھائی وہ مجھے نہیں بُھول پا رہی مجھے پہلے لگا تھا یہ میرا وہم ہے مگر ایک مہینہ ہوگیا بھائی یہ وہم نہیں ہے یہ……” وہ بولتے ہوئے روکتا ۔

“یارم تم ٹھیک ہو نا؟” علی اب صحیح معنی میں پریشان تھا ۔

“نہیں بھائی میں ٹھیک نہیں ہوں مجھے عبیرہ چاہیے وہ میرا سکون ہے وہ مل گئی تو میں ٹھیک ہی جاؤں گا مجھے اُس سے محبت ہوگی گا۔ میں اُس کی نہیں دیکھا مگر میں اُس کے بغیر نہیں رہ سکتا اب۔ ” وہ رونے لگ جاتا اور روتے ہوئے موبائل بند کر دیتا۔

“ہیلو یارم؟” علی کال بند ہونے پر اُس کو آواز دیتا مگر موبائل بند ہو چکا تھا۔