Parchaii by Faiza Hasan Complete novel download pdf
میرے دل پر ایک بوجھ ہے بیا۔ سعود اسی طرح بازو آنکھوں پر رکھے کہہ رہا تھا۔
کیسا بوجھ؟ بریرہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ سعود کو اپنے قریب حرکت محسوس ہوئی تھی۔
میرال آپی میرے ساتھ تھی جب۔۔۔۔ سعود کہتے کہتے خاموش ہو گیا۔ سعود نے رک کر گہرا سانس لیا اور بازو آنکھوں سے ہٹا لیا۔ بریرہ خاموشی سے اسے سنتی رہی۔
میرے سامنے ان کا سانس بند ہوا اور میں کچھ نہیں کر سکا۔ سعود کی آواز بھرانے لگی۔
وہ تمہارے ساتھ تھی؟ لیکن محسن بھائی تو کہہ رہے تھے کہ ان کی باڈی آئی تھی امریکہ سے۔ بریرہ نے حیرت سے کہا۔ سعود نے اسے عجیب طرح دیکھا تھا۔
بھائی نے کہا تھا کہ ان کے دماغ میں کوئی ٹیومر تھا جس کی وجہ سے ان کی ڈیتھ ہوئی تھی۔ بریرہ نے سعود کے سر پر بم پھوڑا۔
بھائی نے یہ کہا؟ کیا پھوپھو کو بھی یہی کہا ہے؟ سعود اب تک صدمے میں تھا۔
ہاں لیکن بھائی نے جھوٹ کیوں بولا؟ بریرہ اب تک شاک میں تھی۔
کیونکہ سچ بتانے لائق نہیں تھا۔ سعود سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
کیا مطلب ؟ بریرہ نے پوچھا۔
تم وعدہ کرو کہ یہ بات راز رہے گی۔ سعود نے محتاط نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ “ایک تو سب کو میرے ہی پاس راز کیوں رکھوانے ہوتے ہیں” بریرہ سوچ کر رہ گئی۔
اچھا وعدہ۔ اب بتاؤ۔ بریرہ نے منہ بسور کر کہا۔
تمہیں یاد ہے میرال آپی کا نکاح کیسے ہوا تھا؟ سعود سیدھا مدعے پر آیا۔
ہاں۔ کال پر ہوا تھا لیکن اس بات کا ان کی ڈیتھ سے کیا تعلق ہے؟ بریرہ نے ایک اور سوال داغا۔
وہ کال ایک وائس ریکارڈنگ تھی۔ سفیان نام کا کوئی شخص ایگزسٹ (Exist) ہی نہیں کرتا۔ سعود نے کہنا شروع کیا۔
تو آپی کا نکاح کس سے ہوا تھا؟ بریرہ اب بھی کنفیوز تھی۔ ان کا نکاح ہوا ہی نہیں تھا اور نہ ہی کبھی وہ امریکہ گئی تھی۔ ایئر پورٹ تک جانا اور پھر وہاں سے فلائٹ لینا سب ایک دھوکا تھا۔
