Skip to content
Home » Falaq afsana by Ameer Hamza Rajpoot

Falaq afsana by Ameer Hamza Rajpoot

Falaq afsana by Ameer Hamza Rajpoot

  • by

“میرا وجود گناہوں کی زد میں ہے۔ میرا ایک ایک خلیہ برائی کی نظر ہو چکا ہے۔میں خطاؤں کا مجسمہ بن چکی ہوں۔ پر۔۔ تو۔۔۔ تو رحمان ہے ۔تیری رحمتوں کا چرچہ تو دونوں جہاں میں ہے۔ تو رحیم ہے ۔۔۔اے اللہ۔۔۔۔۔ تو بخش دے۔۔ تو رحیم ہے تو بخش دے ۔”اس کے الفاظ اب دم توڑ رہے تھے۔ انکھوں کا منظر دھندلا ہو رہا تھا ۔جب کہ بدن درد سے ٹوٹ رہا تھا۔ اچانک ہر طرف اندھیراچھا گیا۔ کسی گہرے راز کی طرح یا اس کی خوبصورت سیاہ زلفوں کی طرح ۔

وہ ہسپتال کے کشادہ کمرے میں بیڈ پر لیٹی تھی اس کے بازو سے خون بہہ رہا تھا۔ ایک ڈاکٹر اس کی سرہانے کھڑا اس کا معائنہ کر رہا تھا ۔ چند لمحے تک س کی بینڈیج کر دی گئی۔ پھر ڈاکٹر کمرے سے باہر نکل ۔وہ سیاہ شلوار قمیض زیب تن کیے پریشانی کی حالت میں دائیں بائیں چکر کاٹ رہا تھا ۔ڈاکٹر کو دیکھ کر وہ فورا رک گیا اور ڈاکٹر کی طرف بڑھا ۔