Fana e hijar novel by Ain Writes Complete Novel
بعض اوقات انسان اتنا تھک جاتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ وہ سب کچھ چھوڑ دے۔ اگر وہ سب کچھ چھوڑ بھی دیتا ہے تب بھی ایک ذات ایسی ہے جو اسے نہیں چھوڑتی ۔عسریٰ پر بھی ایک ایسا وقت آیا تھا۔ تب اسے ادراک ہوا تھا کہ وہ اس ذات کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ سارے رشتے ناطے سب کچھ ثانوی ہے۔ سب سے اہم ایک وہی ذات ہے ۔کچھ لوگوں کو ٹھوکریں کھانے کے بعد اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اس دنیا میں ان کا کچھ بھی نہیں رکھا ۔
عسریٰ پر جس وقت یہ ادراک ہوا اس نے ہر رشتے ناطے سے منہ موڑ لیا ۔اب صرف دنیا داری کی حد تک سب سے رشتہ نبھارہی تھی۔ اصل میں تو وہ اس ذات کی جانب لوٹ رہی تھی جو سب کو اندھیروں سے نکالتا ہے ۔بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ اس کی آزمائش کے ساتھ بھی اللہ نے آسانی رکھی تھی ۔
اس ذات کو پانے سے پہلے وہ لوگوں سے پوچھنا چاہتی تھی کہ تم لوگوں نے ہچکیوں کی آواز تو سنی ہوگی! سسکیوں کی اواز بھی سنی ہوگی ! کیا کبھی آنسوؤں کی آواز سنی ہے ؟ صبر کی آواز سنی ہے؟
مگر وہ خاموش رہ جاتی ۔کیا یہ مٹی کے پتلے اس کے دل کی آواز کو سنیں گے ؟ کیا یہ اس کو سمجھیں گے؟ جنہیں خود بھی نہیں معلوم کہ وہ کیا ہیں!!
