Jawaran afsana by Farah Anwar
“جنت! سبق تیر کا۔” (جنت سبق سناؤ)
میں ابا جی کے پاس ڈرتی ڈرتی جاتی اتنا ان سے ڈر نہیں لگتا تھا جتنا ان کی آنکھوں پر لگی عینک سے خوف آتا تھا۔ عینک میں ابا جی کی آنکھیں بڑی بڑی نظر آتی تھیں۔ اور میں ابا جی کے ڈر سے سبق بھول جاتی۔ اور اگر مجھے سبق یاد بھی ہوتا تو میں کہیں غلط نہ سنا دوں اس ڈر سے بولتی ہی نہیں تھی۔ اور میرے نہ بولنے پر مجھے اچھا خاصہ گھورا جاتا۔
“شرم واکہ، نہ یاوازہ دے کلاس کہ پا کہ شوی یہ، ستہ نورے ملگرے تو بے بل کلاس تہ لارے، او تہ تار اوسہ ب بکری چ چاند کہ یہ۔”
)شرم کر لو تم واحد ہو جو اپنی کلاس میں پرانی ہو سب آ گے چلے گئے سوائے تمہارے، تم ب بکری چ چاند سے باہر نہ آنا.)

