Gul aashiyana by Rimsha Riaz Complete novel
میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں! وہ اس میسج کو دیکھ کر حیران ہوا تھا۔
مسٹری!
کچھ دیر بعد وہ اپنے سامنے ایک نوجوان کو دیکھ رہا تھا ، جو مشرقی تھا ، پیارا سا ۔
کیوں ملنا تھا! سپاٹ لہجے میں سوال کیا گیا۔
بھائی سے ملنا ہے اگر دوہری شخصیت کو سائیڈ میں رکھیں تھوڑی دیر تو! وہ معصومیت سے بولا۔
ایک منٹ کے لئیے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
پھر اس نے بازو پھیلائے ارمغان اس کے گلے لگا تھا۔ ارمغان نے اسے خود میں بھینچا ۔
کیسے ہو مسٹری ، ارمغان نے اس کا شانہ چوما۔
آپ کا انتظار کرتا ہوں آج بھی ! وہ مسکرایا
یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں نہیں آؤں گا؟ وہ مسکرایا۔
ابھی بھی تو آئے ناں؟ وہ ہنسا۔
تم بہت سمجھدار نہیں ہو گئے۔
ہمم مما کہتی تھی!
وہ دونوں دکھی تھے۔
بابا کو آپ نے مارا تھا ناں بھائی اس کے سوال پہ لوسفر نے ماتھا مسلا۔
بدلہ لو گے؟ وہ سنجیدگی سے بولا۔
ہو سکتا ہے؟ وہ مسکرایا ۔
میری ماں پہ ظلم ہوا تھا۔
وہ میری ماں بھی تھی! مگر وہ آپ سے اتنی محبت کیوں کرتی تھیں؟ وہ معصومیت سے بولا۔
مسٹری مجھے کام ہے وجہ بتاؤ بلانے کی؟ وہ تپا۔
مجھے آپ سے بھائی اور خاندان والا پیار مل سکتا ہے؟
اگر امتحان پاس کر لو تو!
کیا امتحان ہے؟ وہ فورا بولا۔
میرے خاندان کی نگہبانی ۔
اور آپ کا خاندان کون ہے؟ وہ بازو سینے پہ باندھ کہ بولا۔
ہمارے مامو کی بیٹی! اس نے اتنا کہا۔ اور چلنے لگا ۔
ماں کی ڈائری لایا تھا۔اپ کو دینے کا بولا تھا ۔صیحیح وقت آنے پہ! وہ آواز پہ رکا تھا۔
پلٹ کے آیا ڈائیری دیکھی۔پھر لے کر چلا گیا ۔وہ۔لڑکا۔پھر سے بینچ پہ بیٹھ چکا تھا۔
اینجل لوسیفر کی ناکام کوشش کرتا ہوا۔وہ منہ بنا کر بولا اور پھر ہنس دیا۔
