دیکھو زونین جو کچھ بھی ہوا میں جانتا ہوں اِس میں تمھارا کوئی قصور نہیں اور میں تمہیں چھوڑ کر نہیں گیا تھا مُجھ پر اعتبار کرو زوینی،اِس سب میں صوفیہ ہی کا قصور تھا اُس نے نہ صرف ہمارا بلکہ خود کا بھی بہت نقصان کیا،
میرا یقین کرو زوینی اُس وقت حالات کُچھ سہی نہیں تھے پاپا کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا جاناں میری مجبوری تھی مُجھے سمجھنے کی کوشش کرو یار میں نہیں جاتا تو نجانے کیا ہو جاتا پلیز زوینی،
زونین نے ایک ٹھنڈی اہ بھری
وہ دونوں سمندر کے کنارے ایک بینچ پر بیٹھے تھے، زونین سامنے دیکھ رہی تھی،
عبدان خانزادہ بار بار وضاحتیں وہ لوگ دیتے ہیں جو گنہگار ہوں اور رہی بات اعتبار کی تو اعتبار توڑنے والوں پر دوبارہ بھروسہ کرنا ایک بہت بڑی بیوقوفی ہیں جو کہ میں نہیں کر سکتی۔۔