Hala e mohabbat by Sidra Chaudhary Complete novel
دعایہ کیا کر رہی ہو تم؟
رقیہ بیگم جیسے ہی ڈائننگ ٹیبل پہ آئی تھیں،دعا کو دیکھ کر حیرانی سے چلا اٹھی تھیں۔
کیا ماما آرام سے بولیں نہ ،آپکا بی پی شوٹ کر جائے گا، اور میں ناشتہ کر رہی ہوں ،جیسے ہر گھر میں یونیورسٹی جانے والے کرتے ہیں۔
ناشتہ،کون پاگل ایسا ناشتہ کرتا ہے،جیسا تم کر رہی ہو؟ پاگل پن کی بھی حد ہوتی ہے۔
کیا ماما آپ مجھے پاگل کہہ رہی ہیں؟ مما آپ جانتی ہیں ،یہ میں ہوں آپکی اکلوتی بیٹی دعا،جسے آپ نے منتوں،مرادوں اور دعاؤں سے مانگا ہے،کتنی معصوم اور بھولی بھالی ہے۔آپ مجھے صرف میٹھا پراٹھا کیچپ کے ساتھ کھانے پہ پاگل کہہ رہی ہیں۔
دعا نے دنیا جہان کی معصومیت،دکھ اور ملال چہرے پہ سجا کر ماں کو دیکھا تھا اور اسکی اس قدر چالاکی پہ رقیہ بیگم سر پکڑ کر بیٹھ گئ تھیں۔
ہاں تمہارے جیسا معصوم تو اس دنیا میں ہے ہی نہیں کوئ،روزانہ ایک نیا شوشہ چھوڑ رکھا ہوتا ہے تم نے،اور اب تو تم نے انتہا کردی ہے،کون کھاتا ہے میٹھا پراٹھا کیچپ کے ساتھ،اور ہردوسرے دن ڈرائیور کو بیووقوف بنا کر گاڑی لے کر نکل جاتی ہواور چھٹی کے وقت آج تک تم ڈرائیور کے ساتھ نہیں آئی،بلکہ آنا تو دور ڈرائیور کو نظر تک نہیں آتی تم،جانے دوستوں کے ساتھ کہاں کہاں سے آوارہ گردی کرتی ہوئ پیدل واپس آتی ہو۔رقیہ بیگم
اب جو شروع ہوئ تو بولتی چلی گئ تھیں،اور انکی ساری باتیں سن کر دعا ہنستی چلی گئ تھی۔
جس پہ رقیہ بیگم نے گھور کر دیکھا تھا۔
بس بس مما باقی طعنے بعد میں دے لیجیے گا، میرا جانے کا وقت ہوگیا ہے۔دعا نے کہتے ساتھ ہی اٹھ کر بیگ اٹھایا تھا اور ماں کے گلے لگ کر پیار کیا تھا۔
