Hasad novel by Rimsha Riaz
بات کم کرتی ہے چیختی بہت ہے ، بٹ تم کوشش کرنا یہ تمھیں کچھ بتا دے ہماری بھی مدد ہو جایے گی، کالا چشمہ سر پہ ٹکائے وہ اس کے ہم قدم تھی
افکورس لیڈی! میں پوری کوشش کروں گی اوکے! ناؤ لے چلو مجھے اس کے پاس مالا!
ہہمم دوست ہو تم تب ہی لے کر جا رہی ورنہ! اس نے منہ بنایا
اب ایموشنل بلیک میل مت کرو اور چلو ! وہ اسے تقریبا گھسٹتے ہوئے لے کر جانے لگی
٭٭
سب دھوکہ ہے،
جو ہوا کھیل پھیل رہی ہے نحوست ہے،
یہ جو حال ہے میرا حسد ہے
کھا ہی جاتا ہے سپنے بھی
اپنے بھی لے ڈوبتا ہے
گر تم جانو! یہ مرض تمھیں راکھ کر دیتا ہے
کچھ نہیں بچتا تمھارے ہاتھ میں ۔
سلور رنگ کے شلوار قمیص بکھرے الجھے بال ہاتھوں میں ناخنوں کے نشانات ، مردہ چہرہ اس پہ چھائیاں ہونٹ پھٹے ہوئے ماتھے پہ نیل پڑا ہوا وہ بے نیاز زمین پہ لیٹی بڑبڑا رہی تھی اس کے پتلے سے ناک میں لونگ تھے جو اس کسی کی آخری نشانی تھی ۔
پھر سے اگی تم ! دروازے کی چاپ پہ وہ بنا اٹھے بولی
