Humrah by Bint e Mehmood Complete novel
“ہاں ہالہ، یہ کیا کہہ رہا ہے شاہ نواز؟؟
ایک بات سن لو میری اگر اس نے تمہیں چھوڑ دیاتو میرے پاس آنے کی زحمت بھی مت کرنا” اسکے ہیلو کہنے سے پہلے وہ شروع ہو چکے تھے۔
” بتایا ہے ا س نے مجھے ، اپنی ماں کی طرح نکلی تم بھی اس نے بھی کبھی میرا ساتھ نہیں دیا تھا۔
تم بھی اسی کی طرح شوہر کو خاطر میں نہیں لاتی ہو۔
تمہیں بھی جانے دیتا میں اس دن تمہاری ماں کے ساتھ، جیسے ژالے چلی گئی تھی”وہ آگے اور بھی کچھ کہتے رہے تھے۔
مگر اس کا دماغ ماں اور ژالے میں اٹک گیا تھا۔
اسکی ماں کہاں تھی؟؟
اور ژالے کون تھی؟؟
اس سے پہلے کے وہ ان سوالوں کے جواب ڈھونڈتی، علی الصبح اسے طلاق کی رجسٹری موصول ہوئی تھی۔
جس کے بعد اس نے ہمیشہ کے لیے وہ گھر چھوڑ دیا تھا۔
چلتے چلتے وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئی تھی ۔
وہ پاس سے گزرتی ایک بس میں سوار ہو گئی تھی۔
یہ جانے بغیر کے اسکی منزل کیا ہو گی
“کل بازار میں تم نے اسی کو دیکھا تھا نا؟” اس کے پوچھنے کی دیر تھی۔
اور ہالہ کا اپنے آنسوؤں پر اختیار نہ رہا تھا۔
“اوہوں ۔۔۔رونا نہیں جو کہنا ہے آج کہہ دو،وہ کیا چیز ہے جو تمہیں مکمل خوش نہیں ہونے دیتی؟؟
نکال دو آج اس پھانس کو” اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیکر اس نے کہا تھا۔
کچھ توقف کے بعد اس نے بولنا شروع کیا۔
“میں تین سال تک ایک abusive marrige میں تھی۔۔۔” شروع سے لے کر اس دن تک سب کچھ اسنے کھول کر زید کے سامنے رکھ دیا تھا۔
آگے اسکی مرضی چاہے تو اسکے ماضی سمیت اسکو سمیٹ لے،چاہے تو ٹھوکر مار دے۔
“تم جب یہاں آئی تھی تو مجھ سے پردہ کرتی تھی۔کیا تم اپنی عدت پوری کر رہی تھی؟” زید نےپوچھا تھا۔
اور اس نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“بس مجھے اور کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔
تمہارا یہ ایک عمل ہر وضاحت پے بھاری ہے،مجھے تمہاری کہی ہر ایک بات پر یقین ہے ہالے” اس نےمضبوط لہجے میں کہا تھا۔
اورہالے نور تو جیسے آج خود اپنی نظروں میں معتبر ہو گئی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
