Skip to content
Home » Ishq kamil by Sidra Ansari Complete novel

Ishq kamil by Sidra Ansari Complete novel

Ishq kamil by Sidra Ansari Complete novel

  • by

آپ کا موبائل میرے پاس رہے گا۔۔۔۔۔

جب تک آپ یہاں ہیں آپ یہ فون استعمال کر سکتی ہیں ۔۔۔اس میں صرف میرا نمبر ہے۔۔۔

کچھ بھی چاہیے ہو تو مجھے بتائیے گا۔۔۔میں حاضر ہو جاؤں گا ۔۔۔

پر آپ میرے لئے یہ سب کیوں کر رہے ہیں ۔۔۔رومان احمد کی طرف دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محبت کے ہاتھوں انسان بہت مجبور ہو جاتا ہے۔۔۔میرے لئے سب سے پہلے میری ڈیوٹی ہونی چاہیے ۔۔۔

لیکن میں ڈیوٹی کی بجائے یہاں بیٹھا ہوں ۔۔۔کیونکہ میں مجبور ہوں ۔۔۔

میرے لئے سب سے پہلے آپ ہیں ۔۔۔۔احمد اپنی بات مکمل کرتا رومان پر اک نظر ڈال کر باہر نکل گیا ۔۔۔

اور رومان ہکا بکا سی اسے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

ثمام آپ اتنی جلدی آ گئے ۔۔۔؟؟

مجھے لگا کھانا کھا کر آئیں گے۔۔۔۔۔

طہور اسے کمرے میں آتے دیکھ کر بولی۔۔۔نہیں طہور میں کھانا ہمیشہ گھر سے ہی کھاتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے پھر میں فاتحہ کو کہتی ہوں کہ آپ کے لئے بھی لے آئے ۔۔۔

طہور کہتی ہوئی اٹھی۔۔۔کیا مطلب ۔۔۔؟؟ فاتحہ کو کیوں کہنا ہے۔۔۔؟؟

ثمام نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔۔۔۔تو کیا ہوا۔۔۔؟؟

اگر فاتحہ کھانا لے آئے گی تو۔۔۔پر طہور میری بیوی تم ہو۔۔۔۔ہاں ثمام۔۔۔۔

یہی تو میں آپ کو کہنا چاہ رہی ہوں ۔۔۔کہ میں آپ کی بیوی ہوں ۔۔۔۔

اس گھر کی نوکرانی نہیں ۔۔۔اور نا ہی مجھے کام کرنے کی عادت ہے۔۔۔

طہور غصے سے بولی۔۔۔اور ثمام اس کی بات پر فوراً پلٹا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا مطلب نوکر نہیں ہو۔۔۔؟؟ تم میری بیوی ہو۔۔۔میرے کام تم نہیں کرو گی۔۔۔

تو کیا نوکرانی کرے گی ۔۔۔؟؟ ثمام غصے سے دھاڑا ۔۔۔ہاں تو رکھ لیں نوکرانی ۔۔۔

مجھ سے نہیں ہوتے یہ کام۔۔۔۔تو ٹھیک ہے پھر شادی بھی نوکرانی سے کر لیتا ۔۔۔

ہاں تو کر لیتے ۔۔۔میری زندگی کیوں برباد کی پھر۔۔۔؟؟ پتا نہیں کیا سوچ کر ان جاہلوں میں شادی کر دی میری ماما نے۔۔۔اونہہہ۔۔۔۔

طہور منہ بناتی بولی ۔۔۔تبھی ثمام کا بھاری ہاتھ اس کے گال پر نشان چھوڑ گیا ۔۔۔

اپنی زبان پر قابو رکھو۔۔۔بھائی ۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟ فاتحہ جو طہور کے لئے کھانا لے کر آئی تھی جلدی سے کھانا سائیڈ پر رکھتی ثمام کی طرف بڑھی۔۔۔

بھائی یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔؟؟

بیوی ہے وہ آپ کی۔۔۔نہیں ہوں میں بیوی اس کی۔۔۔

مجھے نوکرانی سمجھ کر اس گھر میں لائے تھے ۔۔۔اب میں اک منٹ اور یہاں نہیں رہوں گی ۔۔۔۔۔۔۔

بھابھی پلیز بات تو سنیں ۔۔۔رات ہو چکی ہے۔۔۔آپ کیسے جائیں گی۔۔۔۔

صبح بات کر لیں گے۔۔۔اور ثمام غصے سے اک نظر طہور پر ڈالتا باہر نکل گیا ۔۔۔