Ishq ki junoon kheziyan novel by Shifa Eman
ریشوووو۔۔۔ کب سے ڈھونڈ رہا ہوں تمہیں۔۔۔۔ عادی نے اسے لان میں اکیلے بیٹھے دیکھ کر آواز دی۔۔۔
اوہ رئیلی؟ وریشہ نے طنز کیا۔۔۔
اچھے سے جانتی ہو کھانا اکٹھے کھاتے ہیں ہم۔۔۔ عادی نے اسکا طنز اگنور کرتے ہووے جواب دیا۔۔۔
اگر اتنا پتہ تھا تو یہ بھی پتہ ہو گا مما نے کہا تھا عادی وریشہ کے ساتھ ساتھ رہنا۔۔۔ اسنے غصہ ظاہر کیا۔۔۔۔
سوری۔۔۔۔ عادی نے فورا کان پکڑے۔۔۔
معاف کیا۔۔۔ اسنے چہکتے ہوے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا۔۔۔
عادی ی ی ی۔۔۔۔ ویسے کیا سچ میں اچھی لگی تمہیں وہ چڑیل؟ وریشہ نے سرگوشی کی۔۔۔۔
اچھی تو ہے لیکن تم سے زیادہ نہیں۔۔۔۔ عادی مسکرایا۔۔۔۔
اچھی تو میں بہت ہوں مجھے پتہ ہے۔۔۔ برجستہ جواب آیا تھا۔۔۔
یہ بتاو جناب آپ جب نیچے آئیں تو موڈ کیوں آف تھا۔۔۔ عادی نے پوچھا
عادی وہ لڑکی نہ بہت گندی ہے۔۔۔ وریشہ نے منہ بسورتے ہووے گلہ کیا۔۔۔
اچھا جی وہ کیسے؟ عادی نے پوچھا
وہ ایسے شو کر رہی تھی جیسے وہ بہت شرمیلی اچھی ہے سہی ہے میں غلط۔۔۔۔ افففف کیسے بتاوں؟؟ اسنے دانت پیستے ہووے سر کو تھام لیا۔۔۔ عادی تم۔جانتے ہو مجھے نہیں بتانا آتا جو بھی فیل ہو ۔۔۔۔ مجھے نہیں سمجھانا آ رہا کچھ بھی لفظوں میں۔۔۔ لیکن عادی وہ بہت گندی ہے بس۔۔۔۔ اسنے فیصلہ سنایا
تم پاگل ہو ریشووو۔۔۔ وہ مسکرایا۔۔۔
چلو کھانا کھائیں۔۔۔ عادی نے کھڑے ہوتے ہوے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔۔
نہیں مجھے کھانا یہیں بیٹھ کے کھانا ہے وریشہ نے بچوں سی ضد کی۔۔۔
اوکے مائی ڈئیر پارٹنر میں ابھی کھانا لے آتا ہوں۔۔۔ عادی نے اسکے آگے سر خم کرتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔
