Ishq pagal kar deta hai by Sapna Gul Complete novel download pdf
کیا کہا تم نے تم یہ منگنی توڑ رہے ہو؟”پریسہ اس کے سامنے چیخی ۔
“ایم سوری پریسہ بٹ میں مجبور ہوں ۔”بہلول نے انگوٹھی اس کے سامنے رکھی۔
“تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا بہلول! تم آخر ایسا کیوں کررہے ہو؟”
“پریسہ تمہیں کوئی اور چاہنے والا مل سکتا ہے لیکن سرینہ کو سرینہ کو میری ضرورت ہے وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے ۔”
“واٹ ڈڈ یو جسٹ سیڈ “پریسہ ساکت ہوکر پھر بولی ۔
“میرا کل سرینہ کے ساتھ نکاح ہے۔” بہلول تحمل سے بولا ۔
“ہاو کڈ یو؟” پریسہ نے آگے بڑھ کر اسے تھپڑ مارا ۔
بہلول کو اس قدر شدید ریکشن کی توقع نہیں تھی۔
“تم نے سمجھ کیا رکھا ہےایک دن مجھے پروپوز کرتے ہوئے اور دوسری طرف اس گھٹیا لڑکی کے ساتھ نکاح کرتے وے یو چیٹر۔”پریسہ زہر خند لہجے میں بولی ۔
“اسٹاپ اٹ پریسہ! میں جانتا ہوں اس وقت تم غصے تم کبھی سرو کے لیے ایسے لفظ نا استعمال کرتی تم جانتی ہو وہ تکلیف میں ہے وہ مر رہی ہے اسے میری ضرورت ہے۔”
“تو اس کا منگیتر کہاں مر گیا ؟”پریسہ چیخ کر بولی ۔
“منگیتر نے اس سے منہ موڑ لیا لیکن میں نہیں موڑوں گا ۔”
“ہماری منگنی ٹوٹی کوئی نکاح نہیں اب بس بھی کرو تم کوئی بھی چاہنے والا مل سکتا ہے پری اس لیے پلیز جسٹ فورگیٹ اٹ فرگیٹ اوریتھنگ وچ ہپین بٹویین اس۔”بہلول کو یہ سب کہتے ہوئے تکلیف ہورہی تھی۔
“اوکے فائن جسٹ گو ٹو ہیل تین دن میں تمہیں نکاح کر کے دکھاؤں گی ایسی گری پڑی نہیں ہوں سرینہ کی طرح تم سے ہزار بہتر مجھے مل جائیں گے ناو گیٹ لوسٹ۔” پریسہ زور سے دھاڑی۔
بہلول نے ایک دکھ بھری نگاہ پریسہ پہ ڈالی اور وہاں سے چلا گیا ۔
“اللہ کرے تم برباد ہوجاؤ سرینہ تم نے میرا بہلول چھین لیا تمہیں موت آجائے ابھی اسی وقت مر جاؤتم ۔”
پریسہ ہر چیز کمرے میں اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی اور ساتھ میں سرینہ کو بددعا دئے رہی تھی ۔
“ارے بھئی کیا کررہی ہو بہلول نے کچھ کہا ہے تمہیں؟” پریسہ کی مام اندر داخل ہوئیں۔
“امی اس ڈائن نے میرا بہلول چھین لیا میں اسے مار دو ں گی۔” پریسہ منہ چھپا کر رونے لگی۔
“پری جانو! کون ڈائن ؟بتاؤ مجھے ۔”
اس کی امی کو جھٹکا لگا ابھی منگنی کو ایک ہفتہ ہوا ہے اور یہ سب ۔۔
“مام آئی ول ڈسٹروئے ہر شی روئین مائی لائف۔” پریسہ امی کے گلے لگتے ہوئے بولی۔
“پری ڈارلنگ مجھے سب کچھ بتاؤ ایک دم یہ سب۔”
اور پریسہ نے انہیں روتے ہوئے سب کچھ بتا دیا۔
