Skip to content
Home » Kainat Shahid

Kainat Shahid

Mausam khizan ka by Kainat Shahid download pdf

  • by

یہ کہانی حقیقی ہے اور یہ کہانی ایک آپ بیتی ہے۔ ایک ایسے شخص کی آپ بیتی جس نے پہلے خود کو مایوسی کی گہرائیوں میں چھوڑ رکھا تھا اور خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا تھا لیکن بعد میں اس نے نا امیدی سے اللہ پر امید کا خوبصورت سفر طے کیا

************

Planet of experimenter by Kainat Shahid Complete pdf

  • by

یہ کہانی ہے ایک ایسے سائنسدان کی جس نے اپنی عجیب و غریب تخلیقات اپنے جذبات کو ایک طرف رکھ کر کیں کیونکہ اسکا ماننا تھا کہ اگر کچھ کرنا چاہتے ہو تو ناکامی کا خوف نکال دو کیونکہ ناکامی کا خوف انسان کو کامیابی سے دور رکھتا ہے۔

************

Ibrat short story by Kainat Shahid download pdf

  • by

سنسان سی جگہ پر موجود کھڑا وہ وجود انتہائی خوفزدہ تھا۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ اس وقت کہاں پر موجود ہے۔ کافی دیر کے بعد جب اس نے اپنے خوف پر قابو پایا تو اس نے جگہ پہچاننے کی کوشش کی، لیکن اسے یہ جگہ بالکل مختلف لگی۔ سنسان راستہ ، ہر سو ویرانی، اردگرد دوردور تک کوئ ذی روح موجود نہ تھا ، وہ جس جگہ پر موجود تھا وہ ایک خستہ حال سڑک تھی جس کے گرد کچی مٹی موجود تھی ،ہر طرف دھول ہی دھول تھی، اگر دور تک دیکھو تو وہاں پر کوئ مشکل سے آپکو ایک بالکل زرد اور مردہ حالت میں درخت ملے گا۔ یہ سارا منظر دیکھ کر وہاں پر موجود وہ انسان بھی سکتے میں تھا کہ وہ آخر کہاں ہے۔ کافی دیر بعد بھی جب اسے کچھ سمجھ نہ آیا تو اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس جگہ کو دیکھے گا کہ آخر یہ کونسی جگہ ہے جو اس کونہیں معلوم ، اور پھر یہاں سے ہوتا ہے عبرت کا ایک سفر شروع ۔ کیا تم تیار ہو اس سفر کے لیے ؟

Shar by Kainat Shahid Complete novel

  • by

یہاں پر کوئ بھی نہیں ہے؟ تم بلا وجہ ہی کچھ زیادہ سوچ رہے تھے ان میں سے ایک شخص نے کہا۔ اندھیرے کے باعث انکے چہرے واضح نہیں تھے۔

“ویسے بھی ابھی بوس نے پولیس سے بات کی ہے جب تک ہم ان سب کے سارے آرگنز نہ نکال لیں وہ یہاں نہیں آ سکتے۔ آخر کو انکو بھی تو اپنا حصہ چاہیے ۔ آخر میں لہجہ تمسخرانہ تھا۔ صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ انکی نظروں میں پولیس کی کوئ اوقات نہیں ہے۔”

“لیکن میں ابھی بھی یہ سوچتا ہوں کہ آخر مسلمان اپنا ایمان کیسے بیچ سکتا ہے؟ ہم تو غیر مسلم ہیں لیکن مسلمان اگر ایسے ہیں تو میں خوش ہوں کہ میں مسلمان نہیں ۔ ان میں سے ایک شخص بولا ۔”

“پیسے کی لالچ ہے آج ان سب مسلمانوں میں ۔ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے پاس سب سے زیادہ ہو اور ہر کوئ ان کا محتاج رہے اور اس طرح انکی جھوٹی عزت کو مزید چار چاند لگ جائیں ۔ لہجے میں مسلمانوں کے لیے واضح طنز اور حقارت تھا۔جو کہ الماری کے پیچھے آحل اور آلیار نے بخوبی محسوس کیا ۔”

۔( پچھلی تمام انبیاء کی قوم میں صرف ایک برائ موجود تھی اور انکو تباہ کر دیا گیا جبکہ امت مسلمہ میں ان تمام قوموں کی برائیاں موجود ہیں لیکن یہ پھر بھی اس غلط فہمی میں ہیں کہ چونکہ یہ آپ صلوت سلام علیہ السلام کی امت ہیں تو یہ کنفرم جنتی ہیں۔ اور اسی بھول میں یہ قوم اخلاقی پستی کو چھو رہی ہے۔)

وہ آدمی تو اب جا چکے تھے لیکن ان اپنی باتوں سے دو نفوس کو شرمندگی کی انتہاؤں پر پہنچا چکے تھے ۔

اگر آج ہر شخص اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کرے تواس معاشرے کو صحیح کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ یہ سوچتے ہو کہ آپ پوری دنیا کو ٹھیک کر سکتے ہو تو یہاں پر آپ غلطی پر ہو پھر چاہے آپ جتنے مرضی بڑے عالم ہی کیوں نہ ہو ۔

ایک قول ہے:

کل تک میں چالاک تھا تو دنیا کو بدلنا چاہتا تھا لیکن آج میں عقلمند ہوں تو خود کو بدلنا چاہتا ہوں۔