Khud ko tum pe haar dia by Aqsa Tehreem Complete novel
فاتح مجھے معلوم ہو گیا ہے محبت زبردستی حاصل نہیں کی جا سکتی دل پہ کسی کا زور نہیں چلتا دیر سے ہی سہی مگر مجھے پتہ لگ چکا ہے اس لیے میں آپ پہ زبردستی مسلط ہونے کی کوشش نہیں کروں گی ۔۔ بس آپ سے ایک التجا ہے آپ بے شک مجھے محبت نہ دیں مگر مجھ سے میری محبت نہ چھینے ورنہ میں مر جاؤں گی ۔۔۔ کہتے ساتھ وہ بلک بلک کر رو دی ۔۔ غم کی شدت سے فاتح کی آنکھیں بھی بہنیں لگیں تھیں وہ بھی بکھر رہا تھا گڑیا کو اس حال میں دیکھ کے ۔۔ مگر اس میں اتنی ہمت اتنی طاقت نہیں تھی کہ اٹھ کر اس کے بکھرے وجود کو سمیٹ سکے ۔۔ اسے دلاسا دے سکے تسلی دے سکے ۔۔ اس کی محبت نے فاتح کو بھی جلا کے راکھ کر دیا تھا ۔۔
حوریہ ۔۔ بے اختیار فاتح کے لبوں سے یہ لفظ ادا ہوا تھا وہ اچانک ساکت ہوئی تھی پہلی بار فاتح نے اس کو اس کے نام سے پکارا تھا اس نے اپنی بھیگی پلکیں اٹھا کر فاتحہ کی جانب دیکھا تھا ۔۔
میرے دل میں اپنی محبت ڈال کر خود کہاں جا رہی ہو ۔۔ فاتح کے لفظوں سے گڑیا نے بے یقینی سے اس کی جانب دیکھا ۔۔
بتاؤ کہاں جا رہی ہو اپنے فاتح کو چھوڑ کر۔۔ تم رہ لو گی اس کے بغیر ۔۔ مگر تمہارا فاتح تمہارے بغیر نہیں رہ پائے گا ۔۔ فاتح کی آنکھ سے ایک آنسو گرا تھا ۔۔ وہ تو جیسے پتھر ہو گئی تھی ۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
