Khudi afsana by Rida Maryam
مجھے کچھ نہیں سمجھ آرہی ۔ میں میں میں۔ کچھ بھی نہیں۔ آج میری میں نے مجھے زمین کے اوپر ہوتے ہوئے بھی زمین سے اندر اندر کہیں دھنس دیا ہے۔ مجھے لگ رہا ہے کہ میری ہر اگلی سانس آخری ہے۔
آج میری “میں” نے ، میری محبت نے میری خود سے محبت نے مجھے دو کوڑی کا کردیا۔
میرا دل ڈوب رہا ہے اور میرا دماغ وہ تو پھٹنے کو ہے۔ میں کس کو پکاروں ۔ ابو کو ، امی کو ، لالہ کو، یا اللہ کو؟
میں زمین پر بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ رو رو کر میری آنکھیں سوجھ چکی تھیں۔ گرم سیال اب تک آنکھوں سے رواں تھا۔ اور دماغ صرف ایک نقطے پر منجمد تھا۔
