تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرا ماں باپ کے ساتھ ایسا کرنے کی؟
وہ غصے سے اس کی طرف بڑھا لیکن اس سے پہلے وہ اس تک پہنچتا زونیشا نے اس پر پستول تان دی
لگتا ہے تمہیں آرام سے میری بات سمجھ نہیں آئی تمہارے سارے کاموں کا ثبوت میرے پاس پہلے سے موجود ہیں
کیسے تم دہشت گردوں کے ساتھ مل کر ملک میں دہشت پھیلاتے اب جلدی سے اپنے باقی ساتھیوں کے نام بھی بتا دو ورنہ اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا
بدر کا قہقہہ بے ساختہ گونجا
ہا ہا ہا ہا ہا تم خود کو کیا سمجھتی ہو تم مجھے پکڑو کی ورنہ کیا کرو گی ہاں؟ میرے ماں باپ کو مار دو گی چلو
یہ شوق بھی پورا کر لو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا بدر کی آخری بات نویدہ بی بی نے سن لی تھی انہیں ابھی ابھی ہوش آیا تھا
یہ تم کیا کہہ رہے ہو بدر بیٹا اور یہ ہمیں کس نے باندھا ہے؟
یہ تو آپ اپنی پیاری بیٹی زونیشا سے پوچھیں کے یہ سب کیا ہے بدر نے طنزیہ انداز میں کہا
کیا مطلب تمہارا انہوں نے گردن موڑ کر ساتھ کھڑی وردی میں ملبوس زونیشا کو دیکھا
یہ سب کیا ہے زونی بیٹا؟”
ہم آپ کی بیٹی نہیں ہیں ہم کیپٹن زونیشا شاہ ہیں
لیکن بیٹا
آپ خاموش ہو جائیں خاتون اس نے درشتگی سے کہا نویدہ بی بی اس کا یہ روپ دیکھ کر دکھی ہو گئیں زونیشا نے منہ پھیر لیا
صادق صاحب کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا نویدہ بی بی خاموش آنسو بہانے لگیں زونیشا کو اپنے رویے پر
پچھتاوا ہوا لیکن اسے یہ کرنا ہی تھا وہ دوبارہ بدر کی طرف متوجہ ہوئی
تو تم مجھے سچ نہیں بتاؤ گے کہ تم ہی قیوم بغدادی ہو
کون قیوم بغدادی میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا
ہم بتاتے ہیں کہ قیوم بغدادی کون ہے حماد کی آواز پر بدر نے مڑ کر دروازے کی طرف دیکھا سلیم اور
حماد ایک ساتھ اندر آئے تھے وہ دونوں وردی میں ملبوس تھے حماد نے ایک نظر بدر کے پیچھے کھڑی اس
لڑکی کو دیکھا جس سے وہ بچتا آ رہا تھا لیکن قسمت اسے بار بار اسی کے سامنے لا رہی تھی
لیکن آج کچھ مختلف تھا اس میں کیا وہ معصوم سی بھوری آنکھوں والی لڑکی فوج کی وردی میں کھڑی تھی
وردی پر اس کا نام بھی لکھا تھا زونیشا حماد نے زیرلب اس کا نام دہرایا اس واضح شاک لگا تھا اس ایسے
دیکھ کر لیکن جلد ہی وہ سنبھل کر بدر کی طرف متوجہ جو آنکھیں پھاڑے
انہیں ہی دیکھ رہا تھا جیسے یقین کرنے کی کوشش کر رہا ہو اپنی بصارت پر
ایسے مت دیکھو قیوم محبت ہو جائے گی تمہیں ہم سے سلیم نے شرارت سے کہا
کیا بکواس ہے یہ سب تم تو احمد اور آدم ہو پھر یہ فوج کی وردی میں کیا کر رہے ہو؟
” کہانی بہت لمبی ہے دراصل ہم انڈر کور ایجنٹس ہیں اور تمہیں پکڑنا ہمارا مشن تھا جو کہ مس زونیشا کی
وجہ سے پورا ہونے والا ہے کہتے ہوئے ایک نظر زونیشا کو دیکھا جو ان دونوں کو ہی گھور رہی تھی
کیونکہ وہ دونوں اس کے کام کے درمیان وقت ضائع کر رہے تھے”
حماد کو دوسری طرف متوجہ دیکھ کر بدر نے جلدی سے اپنی پستول
نکالی
سوری مس زونیشا لیکن یہ ہمارا شکار ہے اس دفعہ سلیم بولا
کیا مطلب آپ کا شکار ہے اتنے مہینوں سے ہم اپنا سر یہاں کھپا رہے ہیں اور اب جب ہمارا مشن پورا ہونے والا ہے تو آپ دونوں
میجر خان اور میجر سلیم حماد نے شائستگی سے اسے اپنے نام بتائے
جو بھی ہیں آپ ہمیں فرق نہیں پڑتا آپ جائیں ہمیں ہمارا کام کرنے دیں
صادق صاحب کو بھی اب ہوش آ چکا تھا وہ صورتحال سمجھنے کی کوشش کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ساتھ بندھی
اپنی بیوی کی رونے کی آواز پر انہوں نے نویدہ بی بی کی جانب دیکھا
یہ سب کیا ہو رہا ہے بیگم نویدہ بی بی نے ان کو جواب نہیں دیا اس سے پہلے وہ کچھ اور پوچھتے گولی چلنے کی آواز آئی
ان سب کو اپنی طرف متوجہ نہ دیکھ کر بدر نے زونیشا پر گولی چلائی جو زونیشا کی کندھے میں لگی تھی
وہ جھٹکے سے پیچھے کو ہوئی ابھی بدر دوبارہ گولی چلاتا ایک کے بعد ایک بہت سی گولیاں
اس کی پشت میں لگیں خان حویلی گولیوں کی آواز سے لرز اٹھی بدر لمحے میں زمین بوس ہوا
پاگل ہو گیا ہے حماد یہ کیا کیا تم نے قیوم کو مار کیوں دیا
سلیم نے حماد سے پوچھا لیکن وہ اسے جواب دیے بغیر زونیشا کے پاس پہنچا وہ جو ابھی تک سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی
کہ یہ اچانک کیا ہو گیا اسے اپنے پاس آتا دیکھ کر پیچھے ہٹی پھر اس پر اپنی پستول حماد پر تان دی
ہمت کیسے ہوئی آپ کی ہمارے مشن کو خراب کرنے کی اور کیا سوچ کر آپ نے اس پر گولیاں چلائیں؟ وہ غصے سے بپھری
اس سے پوچھ رہی تھی کندھے سے خون بہہ رہا تھا درد بھی لیکن اسے اس سب کی پرواہ نہیں تھی پرواہ تھی تو
آنی محنت ایسے ضائع ہونے حماد نے اس کی بات کا جواب دیے بغیر کہا
آپ زخمی ہیں میرے ساتھ چلیں
ہم نہیں جائیں گے آپ کے ساتھ آپ ہوتے کون ہیں ہم پر حکم چلانے
میں آپ کا سینئر ہوں اور اس لیے کہہ رہا ہوں کہ چلیں اس پہلے میں آپ کی شکایت ہیڈ کوارٹر
کروں حماد نے بھی سختی سے کہا وہ اسے ایسے نہیں دیکھ سکتا تھا
************
ہاں تو ہم نے آپ کو کہا تھا ایسے چوروں کی طرح آنے کو اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے لیکن لائیں میں آپ کی پٹی کر دوں ہاں یہ اچھا ہے کہ پہلے زخم دو اور پھر مرہم بھی خود لگاؤ حماد نے منہ پھولا کر کہا ابھی تو یہ کچھ بھی نہیں ہے مسٹر سنئیر آپ اسے منگنی کا تحفہ سمجھ لیں شادی پر اس بڑا تحفہ ملے گا
کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ؟ آپ مجھے دھمکیاں دے رہی ہیں؟ آپ جو مرضی سمجھیں ہم تو ایسے ہی ہیں ابھی وقت ہے رشتے سے انکار کر دیں حماد کو اب ساری بات سمجھ آنے لگی تھی کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہے
حماد نے ایک دفعہ غور سے اسے دیکھا میرون رنگ کے شلوار قمیض میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی سیاہ بال کھلے چھوڑ رکھے تھے ہلکا سا میک اپ کر رکھا تھا اور ہاتھوں میں گجرے پہنے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی اب آگے سے ہٹیں گے آپ ہمیں گھر جانا ہے پھر کل ہماری نند کی مہندی بھی ہے
یہ اچھا ہے منگیتر کو تو منگیتر مان نہیں رہیں اور نند کو بہت جلدی نند مان لیا قسمت کی بات ہے مسٹر سنئیر وہ مسکراتے ہوئے وہاں دے چلی گئی حماد بھی بالوں میں ہاتھ پھیرتا گھر جانے کے لیے مڑ گیا ابھی اسے آیانہ کی شادی کی بہت سی تیاریاں کرنی تھیں