Skip to content
Home » Mahi Shah

Mahi Shah

Beast ka ishq Season 2 by Mahi Shah Complete novel

  • by

یہ اٹلی کی شام کا حسین منظر تھا جہاں سب مرد اور عورتیں اس شام کے حساب سے خوبصورت ملبوسات میں ملبوس دنیا کی سب سے بڑی نیلامی کی تقریب میں موجود تھے بڑے بڑے بزنس مین اور سیاستدان کے ساتھ شاہی خاندانوں کے بڑے بڑے لوگ لیونیراوڈو دا ونسی( Leonardo da Vinci)

کے آرٹ کی تخلیق کی دنیا کی دوسری مہنگی پینٹنگ کی نیلامی ہونے جا رہی تھی اور دنیا کے خرب پتی اور ارب پتی لوگ

بے چینی سے اس نیلامی کے شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے

لیو نیراوڈو ر دا ونسی کے آرٹ کی بہترین تخلیق میں سے ایک تھی جسے Salvator Mundi کے نام سے جانا جاتا تھا اور اس وقت اسکا مالک “بدر بن عبدا ﷲ بن السعود” تھا جو کہ سعودی عرب کا کلچر منسڑ اور شاہی خاندان سے تھا۔ اسنے اٹلی

کے Doge’s Place میں اس نیلامی کی تقریب کا انعقاد کیا تھا۔

اتنے میں پیلس کے مین گیٹ پر نیوی بلیو رنگ کی

Mercedes Maybach Exelero

آ کر رکی تھی۔اور اسکے پیچھے اسکے گارڈز کی گاڑیوں بھی موجود تھی ایک گارڈ نے آ کر گاڑی کا ڈور اوپن کیا۔

جس میں سے تقریباً پینتیس برس کا جوان آنکھوں پر بلیک گلاسز لگائے باہر نکلا تھا جو اس وقت آف وائٹ برانڈڈ فور پیس میں ملبوس تھا ہاتھوں میں مہنگی ترین گھڑی پہنے پیروں میں براؤن لیدر کے شوز پہنے بالوں کو نفاست سے جیل سے سیٹ کیے

وہ پیلس کے مین دروزے کی طرف بڑھا جہاں ریڈ کارپٹ بچھا ہوا تھا۔اندر داخل ہوتے ہی ایک انگریز لڑکی جو یونیفارم میں پہنے سب کے انیوٹیشن کارڈ کو سکین کرتے انہیں ویلکم کر رہی تھی۔

Welcome Sir please Show me your Invitation card…!

وہ لڑکی مسکراتے ہوئے بولی تو اسنے اپنے کوٹ کی پاکٹ سے اپنا انیوٹیشن کارڈ نکال کر اس لڑکی کو دیا جو وہ ڈیوائس پر سکین کرتے چیک کرنے لگی ڈیوائس سے اپروول ہونے کے بعد اس لڑکی کے انیوٹیشن واپس کیا۔

Thanks Goldy Sir Her The way you can go and

Have a good day…!

وہ لڑکی ہاتھ کے اشارہ سے اسے راستہ بتاتے مسکراتے ہوئے دوسرے مہمانوں کی طرف متوجہ ہو گئی۔

اسنے اندر داخل ہوتے اپنی شارپ نگاہوں سے چارو طرف کا جائزہ لیا سکیورٹی کا ہائی انتظام کیا گیا تھا۔

جب وہی کی انتظامیہ لڑکی نے اسے چہرے پر لگانے کے لیے ماسک کی ٹرے پکڑے ماسک آفر کیا۔

No Grazie

(نہیں شکریہ)

وہ اٹالین زبان میں بولتے شکریا ادا کرتے آگے بڑھنے لگا تو وہاں پاس کھڑے پچاس برس افریقن آدمی نے اسے روکا۔

آپکو یہ ٹرائے کرنے چاہیے دیکھیں کتنے خوبصورت ہیں اس افریقن حبشی آدمی نے اسے فرینڈلی لگانے کا کہا یقیناً وہ بھی کوئی بزنس مین تھا جو اس نیلامی میں آیا تھا۔

نہیں شکریا میں ایسے ہی ٹھیک ہوں وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔

تو وہ افریقن حبشی آدمی اسے دیکھ کر مسکرایا جیسے اسے بہت اچھے طریقے سے جانتا ہو ۔۔۔۔

ہال میں سب کیسا لگ رہا ہے وہ آگے بڑھتے وہ اپنے کان میں لگے ائیر پیس میں ہال میں موجود بڑے بڑے بزنس مین اور سیاستدانوں کو دیکھتے بولا ان میں کہی لوگ شاہی گھرانوں سے بھی موجود تھے۔

بہت رئیسوں والی فیلنگ آ رہی ہے ایک خوبصورت نسوانی آواز گولڈی نے اپنے ائیر پیس میں سنی جو یقیناً ایما کی تھی

وہ لیڈیز تھری پیس سوٹ میں ملبوس تھی وہاں موجود کئی لوگ اسے مڑ مڑ کر دیکھتے وہ ایک خوبصورت بلونڈ بالوں کے ساتھ سبز آنکھوں والی خوبصورت لڑکی تھی اور کوبرا کی ٹیم کا حصہ تھی لیکن کوبرا کی ٹیم کا حصہ ہونا وجہ اسکی خوبصورتی نہیں بلکہ اسکی کام میں قابلیت کے ساتھ مہارت تھی۔

اتنے میں بدر بن عبدا ﷲ السعود بھی وہاں آ گیا تو سب لوگ کرسیوں پر بیٹھ گئے اور نیلامی کی تقریب کا آغاز ہوا۔

اور ایک ہوسٹ سٹیج پر آ کر وہاں موجود ڈائیس پر کھڑی ہوئی…!!!!

میں ہو اپ کی ہوسٹ ایما۔۔۔۔۔

جی تو لیڈیز اینڈ جینٹل مین آپکے آنے کا بہت شکریہ جیسے کہ آپ سب جانتے ہیں آپکو یہاں صدی کی سب سے شاندار پینٹنگ کی نیلامی کے لیے مدعو کیا گیا دیکھتے ہیں کون قسمت والا ہوگا جو اسے حاصل کرے گا لیکن باقی سب دیدار کر سکتے ہیں اس شاہکار کا وہ اپنے ہاتھ سے سامنے موجود لال کپڑے ڈھکی ہوئی پینٹنگ کی طرف اشارہ کرتے بولا اور وہ لال کپڑا پینٹنگ سے ہٹا دیا گیا پینٹنگ ایک ڈیجیٹل تجوری میں موجود تھی جسکے لاک کو ان لاک کرنے کے تین مراحل تھی پہلا مرحلہ صرف اسکے مالک کے چہرے کو سکین کرتی تھی پھر دوسرے مرحلے میں اسکی مخصوص آواز کے کوڈ سے اور تیسرا مرحلہ اسکے فنگر پرنٹس سے کھلتی تھی پینٹنگ کو دیکھتے سب لوگ تعریف کرتے تالیاں بجانے لگے۔جی تو باقاعدہ نیلامی کا آغاز کرتے ہیں۔

کیوں نا پچاس پانچ کروڑ سے شروع کیا جائے وہ ہوسٹ پینٹنگ کی طرف اشارہ کرتے بولا

ٹائیگر پوزیشن پر پہنچ گئے وہ سامنے موجود پینٹنگ کو اپنی شارپ نگاہوں سے دیکھتے بولا جسے وہ جیسے شکاری اپنے شکار کو دیکھتا ہے۔

ہاں میں پہنچ گیا ہوں کوبرا اور سکارپیو کے قریب لوکیشن لے رہا ہوں وہ جیٹ بوٹ میں موجود سامنے ٹاور پر موجود اپنے سنائیپر ساتھی کو دیکھتے بولا جو دور بین کی مدد سے آس پاس کا جائزہ لے رہا تھا

تو پھر آج انہیں ڈی گینگ کا کمال دکھا دیتے ہیں وہ سامنے موجود پینٹنگ کو دیکھتے ہوئے بولا۔

برو تجھے یاد ہے نا اپنی شرط اگر یہ پینٹنگ تو نا لے پایا تو تیری وہ

بلیک لگژری یاٹ میری ہوگی سکارپیو کی آواز ائیر پیس سے گونجی۔

دنیا کا ایسے کوئی کام نہیں ہے جو کوبرا نا کر سکے تم لوگ پارٹی کی تیاری کرو کیوں کہ آج یہ پینٹنگ تو ہم حاصل کر کے رہیں گے وہ سائیڈ سمائل پاس کیے بولا تو دوسری طرف سے ٹائیگر اور سکارپیو کا قہقہہ اسکے ائیر پیس میں گونجا۔

بالکل پیلس کے سامنے موجود بلڈنگ میں سی۔آئی۔اے کی ساری ٹیم موجود تھی جو کیمروں کی مدد سے اس تقریب پر نظر رکھے ہوئے تھی انہیں مخبری کی گئی تھی کہ آج یہاں دنیا کی

دوسری مہنگی ترین پینٹنگ گولڈی چورانے والا ہے اس لیے وہ پوری ٹیم اپنی انسپکٹر ریچل کے ساتھ وہاں موجود سب لوگوں پر نظر رکھ رہی تھی وہ کتنے مہینوں سے گولڈی کو پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے مگر وہ تھا کہ قابو آنے سے پہلے فرار ہو جاتا تھا۔

ذرا اس آدمی پر زوم کرنا انسپکٹر ریچل کمپیوٹر پر بیٹھے اپنے ٹیم میمبر کو دیکھتے بولی تو اسنے زوم کیا۔

مطلب خبر پکی تھی وہ گولڈی کے چہرے کو کمپیوٹر سکرین پر دیکھتے دانت پیستے بولی۔

Sono un agente di polizia, Rachel, dell’Unità Culturale Haritage, sei qui?

میں پولیس آفیسر ریچل ہوں کلچر ہیری ٹیج یونٹ سے کیا تم لوگ وہاں موجود ہو وہ کان میں لگے ائیر پیس میں بولی۔

تو نیلامی کی تقریب میں موجود پولیس والے جو عام کپڑوں میں ملبوس تھے انہیں نے اوکے بولا۔

آج دیکھتی ہوں گولڈی تم کیسے میرے ہاتھوں سے بچ کر جاتے ہو وہ غصے سے گولڈی کے چہرے کو سکرین پر دیکھتے ہوئے بولی۔

آج کی شام کے سب سے خاص مہمان کا بھر پور تالیوں میں سے استقبال کریں جو نا صرف سعودی عرب کے کلچر منسڑ ہیں بلکہ اس شاہکار کے مالک بھی ہیں وہ ہوسٹ بدر بن عبدا ﷲ السعود کو سٹیج میں آنے کی دعوت دیتے ہوئے بولا تو سب نے تالیاں بجاتے اس سعودی منسٹر کا استقبال کیا۔

جی تو قیمت لگانا شروع کرتے ہیں ایما پینٹنگ کی طرف دیکھتے بولا۔

تو وہاں موجود ایک آدمی اپنا ہاتھ اٹھاتے مائک میں پانچ ملین بولا۔

جی تو جرمنی سے پانچ ملین ایما بولی تو وہاں موجود دوسرے آدمی نے ہاتھ اٹھاتے بیس ملین بولا۔

جی تو آسڑیلیا سے بیس ملین ایما پھر سے بولی

پولیس والوں کی نظر گولڈی پر تھی جو ان آدمیوں کو بولی لگاتے دیکھ رہا جو کہ پچاس ملین تک پہنچ گئی تھی۔

The evil lady novel by Mahi Shah 

  • by

کہ۔۔۔۔ کون ہے۔۔۔ وہ لڑکی ڈر کے مارے بولی تھی۔۔۔

گمنام ہے کوئی۔۔۔بدنام ہے کوئی۔۔۔کس کو خبر کون ہے وہ۔۔انجان ہے کوئی۔۔۔گمنام ہے کوئی۔۔۔

یہ آواز سن کے وہ لڑکی تھر تھر کانپنے لگی تھی۔۔۔

اا۔۔۔۔ایول۔۔۔

ایول نے اپنا چاکو نکال کر اس لڑکی کے ہونٹوں پر رکھا تھا وہ لڑکی مہندی کے ڈریس میں سامنے کھڑی سفاک لڑکی کے سامنے کانپ رہی تھی

تمہیں میرے عشق سے ایول کے عشق سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی ۔۔۔۔۔

اس لڑکی کو تو سامنے کھڑی موت نظر آرہی تھی وہ اس کی باتیں سن ہی کب رہی تھی۔۔۔۔۔

میں تمہیں مار نہیں سکتی تم کیونکہ تم کوئی گنہگار نہیں ہو نا لیکن تم بے گناہ بھی نہیں ہو۔۔۔۔

میں میں نے کیا کیا ہے وہ لڑکی ہمت کرتی بولی تھی میں میں تو کایا۔۔۔۔

اس لڑکی کا اتنا کہنا تھا کہ ایول نے ایک زوردار تھپڑ اسے مارا تھا کہ اس کا سر زور سے سامنے دیوار کے ساتھ لگا تھا وہ وہاں ہی گری تھی۔۔۔۔۔

سر سے خون نکلنے لگا تھا ایول نے اپنا چمکدار چاکو نکالا تھا اتنی چمک تھی اس چاکو اور چاکو کے اوپر لکھا بڑا سا ایول کہ کسی کو بھی خوف میں مبتلا کر دیتا تھا وہ لڑکی ایول کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ خوف سے آواز نکالنے کی کوشش کرنے لگی تھی لیکن نکال نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔۔

وہ آرام سے اس کے پاس بیٹھ کے اور اس لڑکی کا ہاتھ پکڑ لیا وہ لڑکی کے سر سے خون نکل رہا تھا

تمہیں میرے عشق کو اپنی ہاتھوں کے لکیروں میں لکھنا چاہا تھا نا تو ایسا کرتے ہیں جن ہاتھوں کے لکیروں میں میرا عشق ہے ان لکیروں کو مٹا دیتے ہیں وہ آہستہ آہستہ اس کے ہاتھوں کے لکیروں میں اپنا چاکو چلانے لگی تھی اس لڑکی کی ضبط سے چیخیں دب گئی تھی۔۔۔۔

ششش۔۔۔۔ کچھ دیر بعد تم پر سکون ہو جاؤ گی اس کے ہاتھ خون سے بھر چکے تھے وہ ایک ایک کر کے اس کے ہاتھ پر چاکو چلاتے اس کا ہاتھ زخمی کر چکی تھی اور وہ لڑکی درد نا برداشت کرتے ہوئے بے ہوش ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔

یہ تو بے ہوش ہو گئی ایول نے اپنی پاکٹ سے ایک ڈیوائس نکالی تھی جو کہ الیکٹرک شاٹ تھا ایول اسے بس تب ہی استعمال کرتے تھے جب کسی انسان کو زندگی اور موت کے بیچ لٹکانا ہو ورنہ وہ سیدھا اپنا تیز دار چاکو اس انسان کے دل پر وار کرتی تھی اور وہ انسان دوسرا لفظ بولنے سے قاصر ہو جاتا تھا۔۔۔۔۔

ایول نے پہلے اسے تھپڑ مار کر اسے ہوش میں لانا چاہا تھا اور وہ لڑکی ہوش میں آئی تھی وہ لڑکی اس ڈیوائس کو دیکھ کر خوفزدہ نظروں سے ایول کو دیکھنے لگی تھی۔۔۔۔

ایول نے بغیر اس کی نظروں کو دیکھے وہ ڈیوائس اس لڑکی کی گردن پر لگا دی تھی وہ لڑکی تڑپی تھی 10 سیکنڈ کے بعد اس لڑکی کا وجود ساکن ہوا تھا اور ایول مسکراتی اس کو چھوڑ کر اٹھی تھی۔۔۔۔

شکر کرو اور تمہیں میں نے مارا نہیں تم نے میرے عشق پر نظر رکھ کر برا کیا تھا اب تم جاؤ سیدھا کومے میں یا اوپر۔۔۔۔