Majal arz e tamana karen kese by Izza Iqbal Complete novel
“قاسم۔۔۔” انزلہ نے اسے تنبیہ کی تھی۔۔۔”اچھا چلو ایک کام کرتے ہیں۔۔۔چونکہ تمہارے ناولز ضبط کرلئے گئے ہیں۔۔” لاریب نے بڑے غور سے انزلہ کو سنا تھا اور قاسم کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ اسی کے ہی پر کاٹے گی۔۔۔
“تو اب قاسم تمہیں بک شاپ پر لے کر جائے گا اور ناولز دلائے گا۔۔۔”
“انزلہ۔۔۔”قاسم نے بے یقینی سے کہا۔۔۔۔”میں نہیں کھیل رہا تم جانبدار ہو۔۔۔”
“کھیل تو آپ نے کھیل لیا وہ تو اب فیصلہ سنا رہی ہیں۔۔۔” جیسے ہی اس نے کہا تھا قاسم نے اس کے سر پر چپت لگائی تھی۔۔۔
“دیکھ رہی ہیں آپ کے سامنے وائیلنس ہورہا ہے۔۔۔۔”
“اور یہ جو فنانشل۔۔۔ایموشنل۔۔۔وربل وائیلنس ہے اس کا کیا۔۔۔۔؟”
“آپ انزلہ باجی کی بات نہیں مان رہے۔۔۔۔” لاریب نے چوٹ کی تھی۔۔اس نے انزلہ کی جانب دیکھا وہ اسے ہی دیکھتے ہوئے ہنس رہی تھی۔۔۔
“تم میری بہت اچھی بہن ہو۔۔۔تمہاری بات تو میں آنکھیں بند کرکے مانوں گا۔۔۔۔۔” اس نے لاریب کر اک بار پھر چڑایا تھا۔۔۔
“آہ میں تو جیلس ہوگئی۔۔۔۔”
“ہاں شکل سے پتا بھی چل رہا ہے۔۔۔۔” اس نے بار جاتے ہوئے کہا تھا انزلہ اس بار اپنا قہقہ روک نہیں پائی تھی۔۔۔
