Wafa mamnooh thehri by Mala Shah Complete novel
“ہیلو میں نے دیکھا کے آپ ہیں تو سوچا کے سلام ہی کر لوں”اگر کوئی اور اس شخص کو دیکھتا تو یقین ہی نہ کر پاتا کے یہ وہی آہل ہے۔۔لڑکیوں سے دور بھاگنے والا آج خود ایک لڑکی کو مخاطب کر رہا تھا
“کر لیا سلام اب آپ جا سکتے ہیں”طور نے چہرے پر سخت تاثرات لئے ہوۓ کہا
“دراصل مجھے اس دن کے لئے سوری کہنا تھا”یہ کیا کسی کے سامنے نہ جھکنے والا آج کسی اور کی غلطی پر اپنے آپ کو جھکا گیا
“ہاہ!سوری بہت سے آپ جیسے لوگ دیکھے ہیں پہلے غلطی کرتے ہیں اور پھر معافی مانگنے آ جاتے ہیں یہ جانے بغیر کے ان کی ایک غلطی سے ایک لڑکی کی پوری زندگی برباد ہو سکتی ہے”طور کے لہجے میں سختی برقرار تھی
کسی کی ایک نہ سننے والا آج خاموشی سے یہ سب سن گیا تھا۔۔طور اٹھی اپنی بک بیگ میں ڈالی اور سائیڈ سے ہو کر گزرنے لگی کے آہل نے بےاختیار اس کی کلائی تھام لی طور بے اختیار پلٹی اور ایک تھپڑ اس کے منہ پر ماری آہل پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ اور سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا وہاں موجود لڑکے اور لڑکیاں اب ان کی جانب متوجہ ہو گئے تھے
“شرم نہیں آتی آپ کو یوں کسی کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ پہلے معافی مانگتے ہیں اور پھر وہی بیہودہ حرکتیں کرتے ہیں۔۔ آپ جیسے مرد ہی ہوتے ہیں جو اپنے ملک اور معاشرے کو بدنام کرتے ہیں یوں کسی کا بھی بیچ راستے میں ہاتھ تھام لینا کہاں کی شرافت ہے یوں کرنے سے دوسروں کی نظروں میں تو آپ ہیرو بنے ہو گے لیکن میری نظر میں تمہاری کوئی حیثیت نہیں ہے۔۔کوئی بھی نہیں۔۔تم گھٹیا ہو یہ تو مجھے اسی دن پتا چل گیا تھا لیکن آج مجھے یقین بھی ہو گیا ہے”
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



