Skip to content
Home » Mantasha Short novel by Sidra Chaudhary

Mantasha Short novel by Sidra Chaudhary

Mantasha Short novel by Sidra Chaudhary

  • by

زعما

جی ماہیر۔

تم نے فجر پڑھی۔

جی آپ کے جاتے ہی پڑھ لی تھی۔اور آج آپ لیٹ ہوگئے۔میں نے ناشتہ بھی تیار کر لیا ہے۔

ارے واہ بیگم۔ٹھیک ہے ناشتے کے بعد تیار ہو جاؤ۔تمہارے لیے سرپرائز ہے۔

کیا سرپرائز ہے۔

ارے ارے سرپرائز تو سرپرائز ہوتا ہے۔مل جائے گا لیکن تھوڑی دیر بعد۔

ٹھیک ہے آپ ناشتہ کریں میں ابھی تیار ہو کر آئی۔

اچھا چلو سفید سوٹ پہننا جو میں نے تمہیں دلایا تھا۔

اچھا جی جو حکم آپکا ۔

حکم نہیں بس درخواست ہے

جی جی اور آپکی درخواست منظور ہو چکی ہے۔زعما ہنستے ہوئے کہہ کر تیار ہونے چل دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہیر چلیں میں تیار ہوں۔زعما نے عبایا پہنتے ہوئے کہا تھا۔

ارے ارے بڑی تیزی دکھائ بھئ آپ نے تو۔ماہیر نے اسے پانچ منٹ میں تیار دیکھ کر چھیڑا تھا۔

اچھا ٹھیک ہے نہیں ہوتی تیار۔زعما نے اپنے ہاتھ روک کر فوراً منہ بنا کر کہا تھا ۔اور صوفے پہ بیٹھ گئ تھی۔

اچھا اچھا ناراض مت ہو۔کیوں صبح مجھے گناہ گار کر رہی ہو۔چلو چلیں۔ماہیر نے زعما کا ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوئے کہا تھا۔