Skip to content
Home » Maryam Rajpoot » Page 2

Maryam Rajpoot

Aey Ishq Mera kamla Jiya by Maryam Rajpoot Complete novel

  • by

یہ تو آغازِ محبت ہے تو میری شدتوں کا یہ حال ہے

تو نے ابھی دیکھا ہی کہاں ہے عروجِ محبت۔۔!!!💗✨

وہ گاڑی کو پارک کر کے تیز تیز قدم اٹھاتے اندر کی جانب بڑھی تھی

لیکن جیسے ہی اسکا پہلا قدم گھر میں پڑا اسکے سر پر آکر کشن لگا تھا۔۔

اسنے جوتے ایک طرف اتارے اور سامنے دیکھا تو اسفی اسکو ہی گھور رہا تھا

وہ معصوم سا چہرا بناتے اسکی جانب بڑھی تھی ۔۔

اسفی۔۔یار وہ ۔۔ابھی اسکی بات مکمل ہوتی وہ دوسرا کشن بھی اسکی جانب پھینک چکا تھا

اس حملے کے لیے وہ تیار نہیں تھی

سو اسک محنت سے سٹریٹ کیے ہویے بالوں کی حالت کچھ عجیب ہو گیی تھی

Hidat e ishq by Maryam Rajpoot Complete novel

  • by

وہ لڑکی دو دن پہلے یہاں آئی تھی۔۔!!! گورکن کی بات پر وہ جھٹکے سے مڑا تھا

کون؟

یہی جس کا جنازہ ابھی لایا گیا ہے

آپکو کیسے پتا یہی تھی؟ صالح کو یقین نہیں آرہا تھا

کیونکہ وہ کہ گئی تھی اسکی قبر تیار کر دوں وہ ٹھیک دو دن بعد یہاں دفنائی جائے گی میں نے وجہ پوچھی تو بولی سردار کا حکم ہے اور یہ حکم میری جان لے لے گا اور بس پھر وہ روتی ہوئی چلی گئی تھی جبکہ گورکن کی بات سنتے صالح جبریل جیسے مر گیا تھا ۔۔

آہہہ اسمارہ حمید تم سے کیا کہوں؟ کیا گلا کروں؟ اتنا یقین تھا تمھیں کہ تم میرے علاوہ کسی کو قبول نہیں کر پاؤ گی ۔۔دیوانی لڑکی خدا گواہ ہے صالح جبریل کو تم سے عشق ہو گیا ہے اور یہ کہتے کہتے وہ رو دیا تھا اتنا اونچا لمبا مرد کسی لڑکی کی قبر پر بھیٹا رو رہا تھا عشق تھا اور اس حدتِ عشق میں وہ اب ہمیشہ جلنے والا تھا۔

Sarange novel by Maryam Rajpoot

  • by

محرم کے ہارٹ بیٹ شو ہو رہی ہے جو کہ بہت لو ہیں اور اسکے سگنل کم مل رہے ہیں وہ کہیں بہت زیادہ کم سرویس والی جگہ پر ہے ۔۔۔وہ یلدز کو دیکھتی بولی تھی جبکہ یلدز کے دل کو کچھ ہوا تھا وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچ گیا تھڈ صالحہ کچھ کرو پلیز جلدی ۔۔وہ باہر کی جانب بڑھا تھا جب اچانک اسکا فون بجا تھا ۔۔۔گرینی محرم کہاں ہے ؟ وہ انکی کال اٹھاتے بولا تو انکی روتی ہنیی آواز کان سے ٹکرایی تھی ۔۔یلدز ووو۔۔۔وہ۔۔۔سس۔۔سسیی۔۔سییم لے گیا ہے اسے وہ اسے اس جگہ لایے گا جہاں وہ لڑکیوں کو مارتا ہے یہ جگہ کویی بہت زیادہ پانی کے قریب ہے پانی بہنے کی آوازیں ۔۔۔ابھی وہ کچھ اور بولتین کال کٹ گیی تھی شاید سگنل ختم ہویے تھے وہ جلدی سے صالحہ کی جانب بڑھا تھا صالحہ یہ کال ٹریپ کرو ۔۔وہ یہین ہے ۔۔ وہ تڑپتے بولا تو صالحہ نے اسکے ہاتھ سے فون لیا تھا اب وہ یہ سوچ رہا تھا پانی کہاں بہتا ہے بہت زیادہ یقینا یہاں جنگل مین ہو گا کچھ وہ لیپ ٹاپ پکڑتے ویسے تمام جگہیں سرچ سر رہا تھا اسکی زندگی مشکل میں تھی اسکی أنگلیاں کانپ رہین تھیں جب اچانک اسے وہ جگہ مل گیی تھی وہ بہتا ہوا جھرنا تھا جسکے پاس کچھ کوٹیج بنے تھے صالحہ نے بھے وہی جگہ بتاییی تھی وہ سب لوگ گاڑیاں نکالتے نکل گیے تھے وہ جگہ وہاں سے آدھے گھنٹے کے فاصلے پر تھی یلدز نے وہ فاصلہ پندرہ منٹ میں تہ کیا تھا پھر وہ تمام لوگ گاڑیوں سے اترت. تمام کوٹیج میں پھیل گیے تھے یلدز جس میں داحل ہوا تھا وہ کوٹیج بلکل پاس تھا جھرنے کے وہ اندر داحل ہوا تو اسے ایک کمرے سے چیخنے کی آوازین آرہیں تھین وہ چیخیں گرینی کی ہی تھیں وہ اندر گیا تو دروازے پر ہی ساکت رہ گیا تھا گرینی آحری سانسیں لے رہیں تھیں وہ آنکھون سے اوپر کی جانب اشارہ کر گییں تو وہ جلدی سے اوپر بڑھا تھا وہاں بہت سے کمرے تھے مگر ایک کمرے کا لاک کھلا تھا وہ آہستہ سے اندر داحل ہوا تھا مگر پھر یلدز کاظمی پتھر سا ہو گیا تھا ہاں وہاں اندر محرم تھی مگر وہ افف اسکو دیکھتے یلدز کی آنکھوں سے نہ جانے کتنے آنسو گرے تھے وہ بے ہوش تھی اسکا وجود کرسی سے بندھا ہوا تھا سختی سی وہ جلدی سے اسکی جانب بڑھا تھا محرم کے ماتھے سے حون نکل رہا تھا وہ اسکی رسیاں کھول رہا تھا جب اچانک دروازہ کھلا اور کویی اندر داحل ہوا تھا یلدز پیچھے مڑا تو سیمم کھڑا تھا مگر اسکے ساتھ صالحہ بھی تھی اسنے صالحہ کے سر پر پسٹل رکھی ہویی تھی ۔۔۔ہاہاہاہاہاہہاہا ۔۔وہ یلدز کو دیکھتے ہنسا تھا تم میری فیری کو لے جایو گے تو میں اسے مار دوں گا!!! جبکہ صالحہ کے بال اسنے سختی سے پکڑ رکھے تھے ۔۔تم پیچھے ہٹو میری فیری سے ۔۔سییم بولا تو یلدز یک دم کھڑا ہوا تھا پھر وہ محرم کے سامنے آگیا یوں کہ وہ نظر نہ آیے یلدز کی نظریں سیم کے پیچھے تھیں جہاں سارک کھڑا تھا اچانک یلدز مڑتے محرم کو اپنے سینے سے لگا گیا اور صالحہ کو پکڑے سیم کے ہاتھ پر سارک گولی مار گیا تھا

Tu mily mil jaey rahat novel by Maryam Rajpoot

  • by

یہ کہانی ایک ایسے شخص سے شروع ہوتی ہے جس نے فقت ایک شرط کی حاتر ایک معصوم سی لڑکی کو اپنے جال میں پہنسایا تھا محبت کے جال میں

یہ کہانی ہے سردار وہاج سلطان

کے عشق کی ۔۔۔اسکے ہجر کی ۔۔اسکے جنون کی۔۔

یہ کہانی ہے دوہا میر کی جسکے اپنوں نے اسے ہود جہنم میں دھکیلا تھا اسکے پیارے نانا نے اسے ایک سنگی انسان کے ساتھ باندھا تھا اسکی زندگی میں زہر گھولا تھا ۔۔

ایک حاسد کی جسنے دوہا میر کو تباہ کرنے کی قسم کھایی تھی اسکو درد دیا تھا ۔۔

یہ کہانی ہے دوہا میر کی ۔۔اسک عشق کی۔۔۔اسکے درد کی ۔۔۔اسکے سردار کر عشق میں قید ہونے کی۔۔

یہ کہانی ہے شاہ کے انتقام کی اور دلربا کے عشق کی۔۔

یہ کہانی ہے وامق سلطان کی محبت کی ۔۔روشانی راہب کمال کے ونی ہونے کی ۔۔۔ان دونوں کی کہانی۔۔

یہ کہانی ہے انتقام کی ۔۔جنون کی۔۔کسی کے عشق کی تو کسی کے ہجر کی ۔۔تو کسی کے حسد کی۔۔دو خاندانوں کی کہانی