Skip to content
Home » Mere bakht ki siyahi by Aqsa Tehreem

Mere bakht ki siyahi by Aqsa Tehreem

Mere bakht ki siyahi by Aqsa Tehreem Complete novel

  • by

جاؤ یہاں سے ۔۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔ زین کو اس کے لفظوں پے اور دکھ ہوا ۔۔

ایسے کیسے چلا جاؤں روشنال ۔۔ یہ کس طرح کا سلوک کر رہی ہو میرے ساتھ ۔۔ مجھے تکلیف ہو رہی ہے ۔۔ اس کی آواز میں نمی آنے لگی تھی ۔۔ وہ رخ موڑ گئی ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں مرچیں لگنے لگیں تھیں ۔۔۔

روشنال میں اس طرح نہیں جاؤں گا ۔۔ کوئی وجہ تو ہو اس طرح کے سلوک کی ۔۔ ہمارے بیچ تو کوئی لڑائی کوئی جھگڑا نہیں ہوا ۔۔ پھر اس طرح سے منہ موڑ کر کیوں کھڑی ہو ۔۔ وہ اس کے لہجے سے ٹوٹ کر بولا ۔۔ روشنال ابراہیم سے اس نے دل کی گہرائیوں سے محبت کی تھی ۔۔۔ اس کا اس طرح کا رویہ اسے دکھی کر گیا تھا ۔۔۔

یہ لو اپنی امانت اور میری جان چھوڑ دو ۔۔ روشنال نے اچانک مڑ کر منگنی کی انگوٹھی اس کی ہتھیلی پے رکھ دی تھی ۔۔۔ وہ ساکت رہ گیا ۔۔ انگوٹھی اس کی ہتھیلی میں کانپ کر رہ گئی تھی ۔۔ پھر اچانک وہ آتش فشاں کی طرح پھٹا تھا ۔۔

یہ کیا ہے روشنال ابراہیم ۔۔ وہ اس کو بازو پکڑ کر جھنجھوڑتا ہوا بولا تھا ۔۔۔ روشنال کو اس کی انگلیاں اپنے بازو میں دھنستی ہوئی محسوس ہوئی تھیں ۔۔

چھوڑو مجھے زین ۔۔ درد ہو رہا مجھے ۔۔۔ وہ اس کی مضبوط گرفت سے خود کو چھڑاتے ہوئے چیخ کر بولی ۔۔

اور جو تم نے مجھے ابھی تکلیف دی اس کا کیا روشنال ابراہیم ۔۔۔ اس نے جنونی انداز میں کیا تھا ۔۔ اس کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہیں تھیں ۔۔۔

میں تم سے کوئی رشتہ نہیں رکھتا چاہتی ۔۔ اس لیے تم میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے ۔۔۔ وہ شیرنی کی طرح دھاڑی تھی ۔۔۔ زین کی گرفت نرم پڑی تھی ۔۔۔ اس کے بے رحم لفظوں سے وہ ڈھے گیا تھا ۔۔

کیوں ۔۔ آخر کیوں نہیں رکھنا چاہتی کوئی رشتہ کوئی وجہ تو ہو ۔۔ وہ بےبسی سے بولا تھا ۔۔ روشنال اس کی گرفت سے آزاد ہو چکی تھی ۔۔۔

کیونکہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں ۔۔۔ اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں ۔۔ روشنال ابراہیم نے دل پے پتھر رکھ کے اپنے دل سے محبت کو نوچ ڈالا تھا ۔۔ زین کے قدم لڑکھڑا گئے ۔۔