Mohabbat hui mehram novel by Maryam
“صحیح کہا تم نے! پاکستان میں حسن کی کمی نہیں
ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ جوتوں اور تھپڑوں کی بھی
کوئی کمی نہیں ہے” …..کہتے ساتھ ہی ہانیہ نے اس پہ
تھپڑوں اور مکوں کی برسات کر دی جبکہ وشمہ نے
بھی دوسرے لڑکے پہ ہاتھوں اور مکوں کا خوب
استعمال کیا ۔۔۔۔ وہ دونوں مخض پانچ منٹ میں
پہچانے ہی نہیں جا رہے تھے ۔۔۔۔ان میں اٹھنے کی بالکل
ہمت نہیں تھی ۔۔۔۔۔
“بھائی! اور حسن دیکھنا ہے یا یہ ہی کافی ہے ۔۔۔” ہانیہ
نے شرارت سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
“نن۔۔۔۔ نہیں! اتنا ہی کافی ہے” ایک نے ہاتھ جوڑتے
ہوئے کہا ۔۔۔
“چلو ہنی ہم چلتے ہیں” ۔۔۔ وشمہ نے ہانیہ کا
ہاتھ پکڑ کر کہا ۔۔۔۔ اور کار کی طرف بڑھنے لگی ۔۔۔
“مزے کی کچھ لگتی۔۔۔۔ یہ تو آنٹی تمہیں بتائیں گی
نا ۔۔۔۔جب اس وقت تک باہر رہنے کا جواز بتاؤ گی” ۔۔۔
“کیا مطلب اس وقت تک! اوہ نو” ۔۔۔واچ پہ نظر پڑتے
ہی اسکے منہ سے بے اختیار نکلا ۔۔۔واچ رات کے آٹھ
بجا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
“آج تو شامت پکی” ۔۔۔اسنے کار سٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔۔
“کوئی بات نہیں۔۔۔۔ کبھی کبھی خود کو ماؤں کا شکار
بھی بناننا چاہیے” ۔۔۔وشمہ نے سیل فون پر گیم کھیلتے
ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔
