Muhafiz by Mariam Fayyaz Complete novel
۔ داد؟ معصومہ نے حداد کو پکارا۔ جی جان حداد !! اعداد محبت سے چور لہجے میں گویا ہوا۔ میں اپ کو بہت تنگ اور بے سکون کرتی ہوں نا۔ معصومہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی حداد نے ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا اور پھر مسکرا کر بولا۔ بالکل بھی نہیں آپ کو ایک بات بتاؤں؟؟ جی !! معصومہ بولی۔ میرے لیے سکون کا مطلب آپ کا وہ تھوڑا سا وقت ہے جو صرف میرے لیے ہوتا ہے۔ حداد اس کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تو معصومہ کا چہرہ کھل اٹھا اس نے جلدی سے اپنی دونوں باہیں حداد کے گرد پھیلائیں۔ مجھے اپ سے ڈھیر ساری محبت ہے کیا اپ کو بھی ہے مجھ سے محبت؟؟ دل میں نہ جانے کیا ایا کہ وہ پوچھ بیٹھی۔ قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ اگر تم مجھے نہ ملی ہوتی تو یہ راز مجھ پر راز ہی رہ جاتا کہ محبت کیسی ہوتی ہے۔ حداد صاف گوئی سے بولا تو معصومہ حیرت سے کچھ دیر ساکت نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی کیا وہ اسے اتنا چاہتا تھا۔ جانتی ہو تم کیا ہو میرے لیے؟؟ کچھ دیر خاموشی کی نظر ہوئے اور پھر حداد بولا۔ کیا ؟؟ معصومہ نے پوچھا۔ تم میرا قیمتی اثاثہ ہو!! حداد بھی اسے اپنی ایک بازو کے حصار میں لیتے ہوئے بولا۔
