Skip to content
Home » Noor Baig

Noor Baig

Woh meri qismat ka sitara novel by Noor Baig

  • by

حورین تمہیں پتہ ہے جب تمہاری کال ائی تو میں کتنا ڈر گیا تھا۔ اگر میں وقت پر نہ پہنچتا یا میں نہ فون اٹھاتا تو کیا ہوتا تم کس کو کہتی ؟

حورین پوری انکھیں کھولے حیرانگی سے عباس شاہ کو دیکھ رہی تھی۔ یہ تو کوئی اور عباس شاہ تھا یہ وہ نہیں تھاجس کو وہ دیکھتی ا رہی تھی۔۔۔۔”مجھے پتہ ہے تم حیران ہو” لیکن میں ان مردوں میں سے نہیں ہوں جو اپنی بیویوں پہ ہاتھ اٹھاتے ہیں یا پھر اپنی انا کی تسکین کے لیے ان کو نیچا دکھاتے ہیں۔ ہاں میں تیار نہیں تھا اس سب کے لیے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ میں اس کا بدلہ تم سے لیتا۔ مجھے یہ بات کہنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہو رہی کہ تم نے پہلے دن سے ہی میرے دل میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ بس میں یہ کہنے سے ہچکچار رہا تھا یا پھر میں خود پہ بھی یہ بات ظاہر نہیں کر رہا تھا لیکن اج مجھے لگا کہ مجھے کہہ دینا چاہیے ۔یہ کہتے ہوئے اس نے ایک گہری سانس لی جیسے اپنے اپ کو تیار کر رہا ہو کہ وہ اس کو کہہ سکے ۔۔۔۔میں تم پہ یقین کرنا چاہتا ہوں حورین میں چاہتا ہوں کہ میں تمہارا ہاتھ پکڑوں اور سب پریشانیوں کو بھلا دوں۔ لیکن ایک برے تجربے نے میرے دل میں میاں بیوی کے رشتے کو لے کر جو گرہ لگائی ہے وہ پتہ نہیں کیوں لیکن وہ کھل نہیں پا رہی اور میں چاہتا ہوں کہ ہم دونوں مل کے اس رشتے کو ٹھیک کریں۔ میں تمہارے ساتھ ایک خوشحال اور بہت اچھی زندگی گزارنا چاہتا ہوں لیکن میں فوری طور پر اس پہ عمل نہیں کر پا رہا لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم میرا یقین کرو اور میرا ساتھ دو۔ تھوڑا وقت لگے گا حورین لیکن مجھے یقین ہے کہ اس وقت میں تم میرے ساتھ ہوگی اور اگے بھی ہم بہت اچھی اور خوشحال زندگی گزاریں گے ۔اس نے یہ کہتے ہوئے حورین کی طرف دیکھا۔ “کیا تم میرا ساتھ دو گی