Talash e hayat by Qalmi Complete novel
ٹی وی میں اماں کی حویلی تھی جو پوری طرح سے جل کر راکھ ہوچکی تھی اور مرنے والوں میں بہت سے لوگوں کے ساتھ اس کا بھی نام تھا۔ اپنا نام سنتے ہی اسے ایک دھچکا لگا۔ اس نے کرسی سے اٹھنے کی کوشش کی تو اس کے ہاتھ پاؤں کرسی کے ساتھ بندھے تھے۔ اس نے زور لگاتے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی اور جب وہ ناکام ہو گیا تو اپنے آس پاس نظر دوراتا زخمی سا غرایا،
کون ہو تم اور کیا چاہتے۔۔۔۔۔
اپنے آس پاس کا منظر دیکھتے ہی باقی کے لفظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے اور وہ اپنے آس پاس کے منظر کو دیکھتا آنکھیں جھنپکانے لگا۔ جیسے اسے یقین نا ہوں کہ جو وہ دیکھ رہا ہے اس کے سامنے وہی سب ہے یا سب اس کی آنکھوں کا دھوکا ہے مگر افسوس یہ سب سچ تھا۔ وہ اپنی سن ہوتی رگو کے ساتھ اس منظر میں ہی کہیں کھوگیا۔
