Skip to content
Home » Qaswah by Dua Fatima Complete novel

Qaswah by Dua Fatima Complete novel

Qaswah by Dua Fatima Complete novel

  • by

زندہ ہے پر مانگ رہی ہے جینے کی آزادی

دیو کے چنگل میں شہزادی یہ کشمیر کی وادی

حد نظر تک سرو و صنوبر ہیں بھی اور نہیں بھی

ظالم کے دربار میں جیسے مہر بہ لب فریادی

چھینتے ہیں ہونٹوں سے دعائیں اور سروں سے ردائیں

دشمن نے جن بھیڑیوں کو جنگی وردی پہنادی

شاید ایسے اک میت پامالی سے بچ جائے

ماں نے کم سن بچی کی دریا میں لاش بہادی

سوئے ہوئے ضمیر نے ابتک دروازہ نہیں کھولا

ہم نے تو ظلم کے پہلے دن زنجیر عدل ہلادی

حسن لکیریں کھینچ رہا تھا سادہ سے کاغذ پر

آزادی کا لفظ لکھا کشمیر کی شکل بنادی

غلام محمد قاصر۔۔۔