Az khud rafta afsana by Rabail Saleem Complete
Az khud rafta afsana by Rabail Saleem Complete Az khud rafta afsana by Rabail Saleem Complete This is social romantic Urdu novel based on… Read More »Az khud rafta afsana by Rabail Saleem Complete
Az khud rafta afsana by Rabail Saleem Complete Az khud rafta afsana by Rabail Saleem Complete This is social romantic Urdu novel based on… Read More »Az khud rafta afsana by Rabail Saleem Complete
“محبت کے بانس” یخ بستہ جدائیاں اور مامتا کے بعد تیسرا ناول ہے ۔ رشتوں میں مٹھاس، اپنایت ، خلوص جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوتا جارہا ۔
رشتوں میں موجود محبت اور ہمارے رسم و رواج کو اپنا اصل کھو رہے ہیں اور ان کی جگہ مغربی رسم و رواج کو پذیرائی ملنے لگی ہے ۔
بس اسی بات نے مجھے اس موضوع پر قلم اٹھانے پر مجبور کیا ۔ کہانی کے کرداروں میں زمل ثمن اور ارحم کا کردار کھٹا میٹھا سا ہے جبکہ بی جان میرا پسندیدہ کردار ہیں جنہوں نے خاندان اور روایات کو ایک لڑی میں پرو کر رکھا ہوا
“Be ready for meet up tomorrow”
“کل ملنے کے لیے تیار رہیں “
لیپ ٹاپ بند کیا ہی تھا کہ نفیسہ کمرے میں آ داخل ہوتے ہیں برہم ہوتے ہوئے بولی ۔
“شاباش بھائی کی شادی ہے اور تم ادھر بھی کام میں مگن ہو ، تھوڑی سی شرم کرلو ، کچھ دن کے لیے کام روک نہیں سکتے”
نفیسہ آپی آپ شروع ہی ہو گئی ہیں سانس تو لیں، چھوٹی سی جان ہے دم نکل جائے گا “
“شرم کرو، میں کیا کہہ رہی ہوں اور تم کیا کہہ رہے ہو”
“اوہو یہ غصہ تو مت کریں ، چھوٹی سی ناک ہے اس پر بھی غصہ بٹھایا ہوا ہے “
شامییییر! تقریبا چلاتے ہوئے بولی
اچھا اچھا سوری اب نہیں کہتا ، مگر کام تو کام ہے یہ تو کرنا ہی ہے ، مگر وعدہ میں سب فنکشنس میں بھرپور حصہ لوں گا”
“بالکل اور اب تم میرے ساتھ چل رہے ہو کیوں کہ ہم نے ڈھولکی رکھی ہے ، اور کوئی بہانہ نہیں چلے گا”
“اوکے مسز عادل ، شامیر سرنڈر کرتے ہوئے بولا”
نفیسہ اس کے انداز پر مسکرا دی اور مڑنے ہی لگی تھی کہ شامیر کی آواز پر پھر رکی
“آپی وہ کب آ رہی ہے ؟”
“کتنے بے صبرے ہو رہے ہو ، آ جائے گی وہ بھی”
“کیا کروں اتنا وقت ہو گیا ہے اسے دیکھے ہوئے “
“انتظار کرو!” یہ کہتے ہوئے نفیسہ کمرے سے نکل گئی
“وہی تو کر رہا ہوں اتنے سالوں سے” شامیر نے کہا اور چینچ کرنے کے لیے مڑ گیا، ور نہ نفیسہ اس کا لیپ ٹاپ ہی توڑ دیتی!
گل لالہ مجھے عشق ہے تم سے ہمارے بیچ پاک رشتے اور تمہارے ان سرخ گلابوں سے ۔۔۔
علی مجھے بھی عشق ہے تم سے تمہاری محبت سے اور ہر اس گل سرخ سے جس میں تمہاری محبت موجود ہے ۔
یہ آوازیں تو حسین تھیں مگر نہ جانے کیوں اس کو لگا تھا کہ اس کا دل پھٹ جائے گا۔
اس نے ان آوازوں کی سرسراہٹ کو روکنے کے لیے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے اور زور سے چلائی
خاموش ہو جاؤ خدا کا واسطہ ہے خاموش ہو جاؤ ورنہ میں مر جاؤں گی ہاتھ میں موجود سرخ محملی سکارف جو پوٹلی کی صورت بندھا تھا نیچے گر گیا تھا
مگر ہنوز وہ ان آوازوں کو روکنے کے لیے چلا رہی تھی اسے لگ رہا تھا کہ قدرت اس کا تمسخر اڑا رہی ہے یہ حسین وادیاں اور جنت نما راستے اس کی قسمت پر چپکے چپکے مسکرا رہے ہیں ۔۔
جب وہ ان آوازوں کی بازگشت سے لڑنے میں ناکام ہو گئی تو خود سے ہار کر ادھر ہی زمین پر بیٹھ گئی اور محملی سکارف کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا
کہیں سے لوٹ آؤ علی دیکھو اب ان راستوں پر سے گزرتی ہوں نہ تو مجھے دیکھ کر ہنستے ہیں یہ اکیلے
مجھ سے یہ وادی کے کنارے چیخ چیخ کر پوچھتے ہیں کہ گل اکیلے کیوں آتی ہو ہمیں تم علی کے ساتھ ہی بھاتی ہو اکیلے مت آیا کرو۔
۔آنسو بھی نہ جانے کہاں سے راستہ بنا کر نکل آئے تھے ۔۔
مگر اسے ہوش کہاں تھی ۔؟