Skip to content
Home » Rabia Rehman

Rabia Rehman

Bawli mohabbat by Rabia Rehman Complete pdf

  • by

یہ ایک دیہات کے دو نفوس کی محبت کی کہانی ہے ۔۔ جن کے گھر والوں کا اختلاف ان کی محبت کا انجام طے کرتا ہے ۔۔ اس تحریر میں ایک پیغام چھپا ہے ۔۔ باولی محبت کا پیغام ۔۔ رانیہ اور بدر کی کہانی ۔۔ باولی محبت کی داستان

************

Mere baba by Rabia Rehman Complete pdf

  • by

یہ کہانی ہے ایک باپ اور بیٹی کی۔۔ ایک باپ جس نے اپنی بیٹی کو تنہا پالا اور بیٹی نے بھی باپ کا حق ادا کیا۔ شاید یہ کہانی آپ کو باپ کی اہمیت سے آگاہ کر پائے ۔۔ کہ باپ ایسا شجر ہے جو اپنے سائے سے محروم نہیں کرتا۔ یہ کہانی ام حبیبہ کی ہے۔ یہ کہانی آپ کی ہے۔

************

Pas e aina by Rabia Rehman Complete Novel

  • by

یہ کہانی ہے ایک فین گرل اور ایک ولاگر کی۔ ایک کیمرہ کس طرح سب کی زندگیوں پہ اثر چھوڑتا ہے۔ ایک لڑکی جو ایک ولاگر کی اتنی دیوانی ہے کہ اس کو فالو کرنے کے چکر میں بہت بڑی غلطی کر بیٹھتی ہے۔ دوسری طرف ولاگر جو کہ فیملی ولاگنگ کرتی ہے کیا واقعی وہ خوش ہے اپنی زندگی میں؟ پس آئینہ حقیقت کچھ اور ہے۔

Sneak

رات گہری ہو رہی تھی ہلکی ہلکی ہوا بھی چل رہی تھی

شاید بارش ہوئی تھی ہر طرف اندھیرا تھا گہرا اندھیرا۔ وہ تینوں تقریبا بھاگتے ہوئے بیسمینٹ تک پہنچے تھے مگر اس سے پہلے کہ وہ اس کو ڈھونڈتے ان کے کانوں نے ٹھاہ کی آواز سنی۔ ہر چیز چند لمحوں کے لیے جیسے ساکت ہو گئی تھی پھر ان تینوں نے خون کی لکیر دیکھی اور وہ سمجھ گئے تھے کہ ان کو آنے میں دیر ہوگئی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ لڑکی چیخ مارتی پاس کھڑے اس لڑکے نے اس کے لبوں پر سختی سے ہاتھ رکھ کر اس کی چیخوں کا گلا گھونٹا، آنسوں ابل ابل کر لڑکی کی آنکھوں سے نکل رہے تھے۔

” آواز مت نکالنا چلو یہاں سے.” لڑکے نے بنا کسی کو مخاطب کیے سنجیدگی سے کہا اور لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر پلٹا، تیسرے نے بھی ان کی پیروی کی تھی۔

****************

رات گہری ہو رہی تھی ہلکی ہلکی ہوا بھی چل رہی تھی

شاید بارش ہوئی تھی ہر طرف اندھیرا تھا گہرا اندھیرا۔ وہ تینوں تقریبا بھاگتے ہوئے بیسمینٹ تک پہنچے تھے مگر اس سے پہلے کہ وہ اس کو ڈھونڈتے ان کے کانوں نے ٹھاہ کی آواز سنی۔ ہر چیز چند لمحوں کے لیے جیسے ساکت ہو گئی تھی پھر ان تینوں نے خون کی لکیر دیکھی اور وہ سمجھ گئے تھے کہ ان کو آنے میں دیر ہوگئی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ لڑکی چیخ مارتی پاس کھڑے اس لڑکے نے اس کے لبوں پر سختی سے ہاتھ رکھ کر اس کی چیخوں کا گلا گھونٹا، آنسوں ابل ابل کر لڑکی کی آنکھوں سے نکل رہے تھے۔

” آواز مت نکالنا چلو یہاں سے.” لڑکے نے بنا کسی کو مخاطب کیے سنجیدگی سے کہا اور لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر پلٹا، تیسرے نے بھی ان کی پیروی کی تھی۔