Yeh hain qismat ke faisly by Rida Bint e Tahira Complete novel
مجھے تمھاری پل پل کی خبر ہے اور یہ تم حنید کے ساتھ گھوم رہی بند کر دو مجھے ذرا بھی پسند نہیں ۔
اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے۔
وہ کہتی ہے
کیسا فیصلہ
کی ہمارا نکاح آج ہی ہوگا۔
ماہا ہونقوں کی طرح دیکھتی ہے ۔
یہ کیا کہہ رہے ہو۔
وہی جس کے لیے میں نے بیس سال انتظار کیا ۔
ماہا نے محسوس کیا کہ اس نےیہاں آکر کتنی بڑی غلطی کر دی۔
ایسا نہیں ہو سکتا۔
تم ایک دوکھے باز انسان ہو۔
تم نے مجھے یہاں کسی ثبوت کے لیے بلایا تھا ۔
وہ مسکراتا ہے ۔
کون سے اور کن ثبوتوں کی بات کر رہی ہو۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ میری دسترس سے بھاگ نہیں سکتی ۔ لیکن خیر کوئی بات نہیں ۔
یہ جتنے دن تم نے موج مستی کرنی تھی کر لی اب تم میری ہوں۔
تم میرا عشق ہو بچپن کا ۔
اتنے نازو سے رکھا ۔ آمنہ نے عابد نے ایک آنچ نہیں آنے دی ایک کلی کی سینچا۔
وہ چینخ کر کہتی ہے نام مت لو ان کا میں مر گئی ان دونوں کے لیے۔
ماہا اس وقت جتنی بے بس تھی وہ کبھی نہیں ہوئی کس کو بتاتی ۔
اس دنیا میں ہر کوئی اسے مطلبی لگتا تھا لیکن آج اسے حنید کی یاد آرہی تھی ۔
وہ بڑی مضبوط بن کر کہتی ہے میں یہ نکاح نہیں کروں گی ۔
جس کو تم عشق کہہ رہے ہو وہ تمھاری ضد ہے اور کچھ نہیں ۔
میرے ماما بابا سے مجھ کو دور کر دیا ۔ ساری زندگی میں ان سے دور رہی اور جنہوں نے مجھے پالا بڑا کیا کسی ماں کا پیار جھوٹا کیسے ہو سکتا ہے اور کوئی باپ اولاد کی عزت کیسے کر سکتا ہے۔
صرف تمھاری وجہ راحیل شاہ صرف تمھاری وجہ سے مجھے تم سے بہت نفرت ہے ۔ اور شادی کا کہہ رہے ہوں ۔
٭٭٭٭

